نئی دہلی۔ 18 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 2017ء میں تقریباً 8 لاکھ 2,000 کمسن اموات ریکارڈ کی گئی جو گزشتہ پانچ سال میں سب سے کم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 2017ء میں 6 لاکھ 5 ہزار نومولود بچوں کی اموات ہوئیں اور کل اموات 8 لاکھ 2 ہزار بتائی گئی۔ یونیسیف کے ہندوستانی نمائندے یاسمین علی حق نے کہا کہ ہندوستان میں کمسن اموات کی شرح میں قابل لحاظ کمی آئی ہے جو پانچ سال کے بعد اموات کا حصہ ہیں اور ہندوستان میں شرح پیدائش اور اموات دونوں مساوی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں انحطاط کی اصل وجہ نومولود کی پیدائش پر خصوصی توجہ اور مختلف بیماریوں کی روک تھام کیلئے ٹیکہ اندازی ہیں۔ 2016ء میں 8.67 لاکھ سے گر کر یہ تعداد 2017ء میں 8.2 لاکھ ہوگئی اور مسز حق نے کہا کہ یہ ایک ہمت افزاء خبر ہے کہ پچھلے گزشتہ پانچ سال میں لڑکیوں کی کم شرح اموات کی وجہ سے جنسی عدم توازن جو فرق آگیا تھا، وہ بھی مساویانہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تغذیہ میں بہتری کیلئے سرمایہ کاری Poshan مہم اور ہندوستان کی 2019ء تک کھلے مقام پر رفع حاجت کو ختم کرنے کی پالیسی کے باعث اس قسم کے ہمت افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں اور اس میں 2019ء مزید بہتری پیدا ہونے کی توقع بھی ہے۔ اقوام متحدہ کی نئی شرح اموات رپورٹ کے مطابق 2017ء میں کمسن اموات میں پانچ سال عمر سے کم بچوں کی تعداد 6.3 ملین رہی یا پھر فی سیکنڈ ایک موت کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور 5.4 ملین اموات کی اکثریت پیدا ہونے کے پانچ سال کے اندر واقع ہوئی ہے جس میں بے نصف تعداد نومولود بچوں پر مشتمل ہے۔ یونیسیف ڈائریکٹر آف ڈیٹا ریسرچ اور پالیسی لارنس چانڈی کے مطابق اگر فوری طور پر ایکشن نہ لیا جائے تو 2030ء تک پانچ سال کم عمر 5.4 ملین اطفال صورت کے منہ میں چلے جائے گی اور انہوں نے کہا کہ 1990ء تک ہم نے بچوں کے تحفظ میں ایک اہم سنگ میل حاصل کرلیا ہے۔ اس کے باوجود اکتیس ملین اطفال موت کے منہ میں ہر سال چلے جاتے ہیں اور معمول سے اقدامات بشمول ادویات، صاف پانی، الیکٹریسٹی اور ٹیکہ اندازی کی بدولت ہم پر بچے کی زندگی میں تبدیلی کی ضمانت ثابت ہوسکتی ہے۔