۔ مودی حکومت کے ترقیاتی ایجنڈہ کو آر ایس ایس نے ہوا کردیا

جئے پور ، 21 مارچ (پرویز باری کا ای میل) ’’وہ جن کے ہاتھوں میں اقتدار کی باگ ڈور ہے آج انہیں یہ نہایت واضح کردینا ضروری ہے کہ جو کچھ بھی دستوری حقوق مسلمانوں کو آزاد ہندوستان کے شہری کی حیثیت سے حاصل ہے وہ انھیں جمہوری انداز میں عطا کئے جانے چاہئیں۔ یہ حکومت ِ وقت کیلئے لازمی ہے کہ ہندوستانی دستور کا احترام کرتے ہوئے مسلمانوں اور اس ملک کی دیگر برادریوں کے تمام مذہبی اور شہری حقوق قبول کرے،‘‘ ان خیالات کا اظہار مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی، صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بورڈ کے 24 ویں اجلاسِ عام میں اپنی صدارتی تقریر میں کیا۔ یہ اجلاس آج اس گلابی شہر میں واقع درسگاہ جامعۃ الہدایہ میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے زائد از 400 مندوبین حصہ لے رہے ہیں۔ مولانا رابع نے کہا کہ مذہبی حق کی آزادی کو برقرار رکھنے کی مستقل ضرورت ہے کیونکہ ایسا اندیشہ ہے کہ اسے بگاڑا جاسکتا ہے یا حکومت ِ وقت کی جانب سے ایسی صورتحال پیدا کی جاسکتی ہے اسے کنٹرول میں لے لیا جائے۔ انھوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ مرکز کی نئی حکومت ہندوستانی دستور کے سکیولر اور جمہوری کردار کو ترک کرتے ہوئے اس ملک کو کسی نئی سمت لیجانے کے عزائم رکھتی ہے۔ بورڈ کے نمائندوں نے بھی الزام عائد کیا کہ ترقی کا ایجنڈہ جس پر نریندر مودی نے الیکشن لڑا اسے ’’پس پشت‘‘ ڈال دیا گیا ہے۔ انھوں نے آر ایس ایس اور دیگر ہندو تنظیموں کو اپنا ایجنڈہ مسلمانوں پر تھوپنے کی کوشش کا مورد الزام بھی ٹھہرایا۔ تاہم انھوں نے کہا کہ بورڈ کیلئے وزیراعظم مودی سے ملاقات کا یہ درست وقت نہیں ہے۔ دریں اثناء نائب معتمد بورڈ مولانا عبدالرحیم قریشی کی تصنیف ’’ ایودھیا تنازع: فسانہ ہے حقیقت نہیں‘‘ کے علاوہ دیگر کئی کتب کی بھی اس موقع پر رسم اجرائی عمل میں آئی۔