یہ مودی کا بے رحم نیا ہندوستان ہے : راہول گاندھی

ملک میں گائیں محفوظ ہیں، خواتین نہیں۔ بی جے پی کی حلیف شیوسینا کا بیان

نئی دہلی۔23 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج کہا کہ نفرت نے وزیراعظم نریندر مودی کے بے رحم نئے ہندوستان میں جگہ لے لی ہے اور ذرائع ابلاغ کی خبروں میں دعوی کیا گیا ہے کہ الور کے ملازمین پولیس نے 3 گھنٹے ایک مرتے ہوئے شخص کو جو ہجومی تشدد کا شکار ہوا تھا، ہاسپٹل نہیں پہنچایا کیوں کہ وہ راستے میں چائے پینے کے لیے رکے تھے۔ 28 سالہ مہلوک مبینہ طور پر راجستھان کے ضلع الور میں جمعہ کے دن رات کے وقت عوام کے ایک ہجوم کے حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ اس ہجوم نے اس پر گایوں کی اسمگلنگ کا الزام عائد کیا تھا۔ الور کے ملازمین پولیس نے مرنے والے اکبر خان کو جو ہجوم کے زدوکوب کا نشانہ بنا تھا، طبی امداد کے لیے ایک دواخانہ منتقل کرنے میں جو صرف 6 کیلومیٹر کے فاصلے پر تھا، تین گھنٹے خرچ کیے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ راستے میں چائے پینے کے لیے رکے تھے۔ راہول گاندھی نے اپنے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ یہ مودی کا بے رحم نیا ہندوستان ہے جہاں انسانیت کی جگہ نفرت نے لے لی ہے اور لوگوں کو کچلا جارہا ہے، مرنے کے لیے چھوڑ دیا جارہا ہے۔ خان اور اس کا دوست اسلم دو بھائیوں کو ہریانہ میں اپنے گائوں منتقل کررہے تھے، راستے میں لال ونڈی ضلع الور کے قریب جنگلاتی علاقہ میں گزشتہ ہفتہ پانچ افراد نے ان پر حملہ کیا، تین افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے بموجب جس کا حوالہ راہول گاندھی نے دیتے ہوئے دعوی کیا کہ ملازمین پولیس راستے میں چائے پینے کے لیے اس لیے رکے تھے کیوں کہ گایوں کو پناہ گاہ میں پہنچانا خان کو دواخانہ منتقل کرنے سے زیادہ اہم تھا۔ دریں اثناء ممبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب شیوسینا نے کہا کہ بی جے پی زیر قیادت حکومت جس کے دور اقتدار میں ہجومی تشدد کے واقعات پیش آرہے ہیں، گائیں ملک میں خواتین کی بہ نسبت زیادہ محفوظ ہیں۔ شیوسینا کے صدر ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ہم اس حکومت کا ایک حصہ ہیں لیکن اگر کوئی چیز غلط ہے تو ہم اس کا دفاع نہیں کرتے۔ یقینی طور پر اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔ ہم بھارتیہ جنتا پارٹی کے دوست ہیں تاہم پارٹی میں نہیں ہیں۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب صرف ایک نام کی پارٹی رہ گئی ہے۔ شیوسینا، بی جے پی کی مہاراشٹرا اور مرکز دونوں میں شراکت دار ہے۔