یکطرفہ کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ، بی جے پی کا الٹی میٹم

نئی دہلی؍ جموں ۔ /10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی نے آج اپنی حلیف پی ڈی پی کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ مزید کوئی یکطرفہ کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ یہ بھی واضح اشارہ دے دیا گیا ہے کہ اقتدار پر برقراری اس کی ترجیح نہیں ہے ۔ علاحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی کے بعد سے دونوں حلیف جماعتوں میں باہمی روابط کشیدہ ہوگئے ہیں ۔ ریاستی ڈپٹی چیف منسٹر اور بی جے پی لیڈر نرمل سنگھ نے آج دہلی میں پارٹی صدر امیت شاہ سے ملاقات کی اور اس تنازعہ کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال سے انہیں واقف کروایا ۔ پارٹی کے باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پی ڈی پی اعلیٰ قیادت کو یہ وارننگ دی گئی ہے کہ آئندہ اس طرح کی یکطرفہ کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ بی جے پی مرکزی قیادت نے پی ڈی پی پر واضح کردیا ہے کہ اقتدار میں رہنا بی جے پی کی ترجیح نہیں ہے

اور وہ قومی سلامتی کے معاملے میں یا علحدگی پسندوں و عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے سلسلے میں کسی طرح کی رعایت نہیں کرسکتی ۔ اس دوران ریاستی حکومت نے بھی بظاہر اپنا موقف نرم کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مزید کسی سیاسی قیدی یا عسکریت پسندوں کو رہا نہیں کرے گی ۔ ریاستی معتمد داخلہ سریش کمار نے کہا کہ اب ایسا نہیں ہوگا ۔ انہوں نے بتایا کہ مسرت عالم کے خلاف دوبارہ پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ اسی لئے انہیں رہا کیا گیا ہے ۔ آئندہ مزید کوئی رہائی عمل میں نہیں لائی جائے گی ۔ معتمد داخلہ نے مسرت عالم کی رہائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کسی کو حراست میں رکھنے کی حد مقرر ہے ۔ آپ زیادہ سے زیادہ 6 ماہ یا پھر ایک مرتبہ اور حراست میں رکھ سکتے ہیں ۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ایک ہی الزام پر متعدد مرتبہ کسی کو حراست میں نہیں رکھا جاسکتا ۔

اس دوران مرکزی وزیر داخلہ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ ان کی حکومت قومی سلامتی کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت کے تسلسل کو نہیں۔ بی جے پی جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت میں شامل ہے۔ ان کا یہ تبصرہ وزیراعظم نریندر مودی کی پارلیمنٹ میں اس وضاحت کے بعد منظرعام پر آیا ہیکہ علحدگی پسند قائد مسرت عالم کی رہائی ناقابل قبول ہے اور یہ کہ حکومت قوم کی یکجہتی کی قیمت پر کسی سمجھوتے کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میری حکومت قومی سلامتی کی قیمت پر بہرحال سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ہمارے لئے حکومت یا اقتدار اتنا اہم نہیں ہے چاہے یہ مخلوط ہو یا اپنے بل بوتے پر۔ یہ ہماری ترجیح نہیں ہے۔ ہماری اولین ترجیح ملک اور اس کی سلامتی ہے۔ آپ کو ہمارا ارادہ سمجھ لینا چاہئے۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ وہ فی الحال صرف ایک بیان دے رہے ہیں وہ یہی بات کل پارلیمنٹ میں کہہ چکے ہیں کہ ہمارے لئے حکومت اولین ترجیح نہیں بلکہ قوم کی سلامتی اولین ترجیح اور اہم ترین بات ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ نے کہا کہ آپ کو یہ حقیقت سمجھ لینی چاہئے اور میرے خیال میں ہر چیز اس بیان میں سمو دی گئی ہے۔

وہ مرکزی صیانتی فوج سی آئی ایس ایف کے 46 ویں یوم تاسیس کے موقع پر علحدہ طور پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا کہ وہ ریاستی حکومت کی سرکاری تاویل سے مطمئن نہیں ہیں جو ان دو موضوع پر قبل ازیں روانہ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں فی الحال کچھ نہیں کہوں گا۔ میں کل ہی پارلیمنٹ میں کہہ چکا ہوں کہ میں حکومت جموں و کشمیر کی اس مسئلہ پر تاویل سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوں۔ مزید اطلاعات حاصل ہونے کے بعد وہ تبصرہ کریں گے۔ انہوں نے ان اطلاعات کی بھی تردید کردی کہ چیف منسٹر جموں و کشمیر مفتی محمد سعید نے اس موضوع پر ان سے بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تقریباً 3 سال سے یا ان کی حلف برداری کے بعد یا اس سے پہلے ان سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے ارکان نے علحدگی پسند قائد کی رہائی پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے اس تبدیلی کو قوم دشمنی اور ملک کی یکجہتی کیلئے خطرناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کو بھی چیلنج کیا کہ مفتی محمد سعید زیرقیادت حکومت سے اس مسئلہ پر دستبرداری اختیار کرلیں۔