یکساں سیول کوڈ پر ماہرین و مسلم رہنماؤں سے مشاورت

رائے معلوم کرنے ایک پیانل کی تشکیل : آندھرا پردیش اقلیتی کمیشن کا اقدام
حیدرآباد 13 ڈسمبر ( آئی این این ) آندھرا پردیش اسٹیٹ اقلیتی کمیشن نے آج ایک پیانل تشکیل دیا ہے جو یکساں سیول کوڈ پر ماہرین اور مسلم مذہبی رہنماوں کے خیالات معلوم کریگا ۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آندھرا پردیش اقلیتی کمیشن کے صدر نشین عابد رسول خان نے ادعا کیا کہ مرکزی وزیر قانون ڈی وی سدانند گوڑا نے ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے ایک بحث کا آعاز کیا ہے ایسے میں کمیشن نے ایک پیانل تشکیل دیا ہے تاکہ سماج کے مختلف طبقات کی رائے حاصل کی جائے اور ایک رپورٹ بھی تیار کی جائے جس میں یہ تجویز کیا جائے کہ اگر یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جاتا ہے تو مسلم پرسنل لا میں مداخلت نہیں ہونی چاہئے ۔ اقلیتی کمیشن نے مزید تین پیانلس بھی تشکیل دئے جو مختلف امور کا جائزہ لیں گے جن میں اقلیتوں ‘ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم بھی شامل ہیں۔ عابد رسول خاں نے تجویز کیا کہ اقلیتوں ‘ خواتین اور بچوں کیلئے مرکزی حکومت ایک جوڈیشیل کمیشن تشکیل دے اور فاسٹ ٹریک عدالتیں بھی قائم کی جانی چاہئیں تاکہ ان مقدمات کی بسرعت یکسوئی ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ جو پیانلس تشکیل دئے گئے ہیں وہ اندرون 15 یوم اپنی رپورٹ تیار کرینگے اور یہ رپورٹس اندرون 30 دن تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی حکومتوں کو پیش کردی جائیگی ۔ عابد رسول خاں نے تجویز کیا کہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے بلا سودی مختصر مدتی اور ضرورت پڑے تو یومیہ قرضہ جات بھی چھوٹے کاروباریوں کو فراہم کئے جائیں تاکہ سماج میں غیر قانونی سود خوری کی لعنت کو ختم کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو گذشتہ 15 مہینوں کے دوران عصمت ریزی کے 14 ‘ قتل کے 4 جہیز ہراسانی کے 28 معاملات کی شکایت ملی ہے اور عصمت ریزی کے کم از کم 10 معاملات میں متاثرہ لڑکی نابالغ تھی اور ملزمین پڑوسی تھے جنہوں نے بعد میں متاثرہ لڑکیوں کو دھمکیاں بھی دی تھیں۔