یواے ای کے اسکولوں سے منسٹری نے کھانے کی نو چیزوں پر لگایا امتناع

یواے ای کے تمام اسکول کینٹین میں فروخت کی جانب والی اشیاؤں پر پابندی کی ایک فہرست وزرات تعلیم نے جاری کی ہے
کھانے کی نو اشیاء کو بچوں کی صحت پر مضر اثرات دالنے والی چیزوں کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے۔

منگل کے روز ملک کے اسکولوں میں مذکورہ فہرست تقسیم کی گئی ہے۔

View this post on Instagram

. حظرت #وزارة_التربية_والتعليم إحضار تسعة أصناف من الأطعمة في المقاصف المدرسية على مستوى الدولة، حفاظاً على سلامة وصحة الطلبة، ضمن مشروع تعزيز الأنماط الغذائية الصحية للطلبة من خلال #المقاصف_المدرسية. وحدّدت الوزارة في نشرة استرشادية، وزعتها على الإدارات المدرسية، أخيراً، الأطعمة الممنوع إحضارها الى المدرسة، وهي اللحوم المصنّعة مثل #النقانق و #المرتديلا والبسطرمة، و«#الأندومي» لاحتوائها على نسب عالية من الدهون المشبعة والصوديوم وأحادي الصوديوم والنكهات الاصطناعية، وألواح #الشوكولاتة التي تحتوي على #مكسرات والسادة، والشوكولاتة القابلة للدهن لاحتوائها على نسب عالية من الدهون المشبعة والسكر والنكهات الاصطناعية، والحلويات مثل الجيلي والمصاص (loly pop) والعلكة السكرية والسكريات اللاصقة المكونة من الأصباغ، والفول السوداني ومنتجاته، تجنباً للحساسية، والبطاطا المقلية ورقائق البطاطا ومنتفخات الذرة (البوفيك)، والمشروبات الغازية منها مشروبات الطاقة والمياه المنكهة والمشروبات الرياضية والعصائر المحلاة بالسكر والنكهات الاصطناعية والشاي البارد والمشروبات المثلجة (سلاش والاسيكيمو)، والكيك بالكريمة و«الدونات» لاحتوائها على الدهون المشبعة والسكر والنكهات الاصطناعية والأصباغ. ولفتت الوزارة إلى أن إجراءات منع بعض الأطعمة في المقاصف المدرسية تأتي أسوة بأفضل التجارب والممارسات الصحية العالمية، لتعزيز السلوكيات الصحية المتعلقة بالغذاء داخل أسوار المدرسة، لإكساب الطلبة العادات الغذائية السليمة من حيث النوعية والكمية، بما يسهم إيجابياً في خلق سلوك غذائي صحي لدى الطلبة يستمر معهم مدى الحياة ويقيهم من الأمراض المرتبطة بسوء التغذية كالسمنة والنحافة وفقر الدم، وغيرها من الأمراض المزمنة. وطالبت الوزارة مديري المدارس بضرورة التأكيد على الطلبة وأولياء أمورهم بالابتعاد عن تناول هذه الأصناف من الأطعمة، وتشجيع الطلبة على تناول الأطعمة الصحية، وعدم إحضار أطعمة غير المسموح بها إلى المدرسة. ودعت النشرة أولياء أمور الطلبة إلى الحرص على تشجيعهم على تناول وجبة الإفطار بالبيت قبل الذهاب إلى المدرسة، موضحة أن هذه الوجبة تساعد الطلبة على التركيز الذهني وتحسين التحصيل الدراسي، وتحسين عمل الذاكرة والقدرات الإدراكية كالفهم والاستيعاب، والوقاية من السمنة والسكري من النوع الثاني، كما تساعد أجهزة الجسم على العمل بطريقة سليمة ومنظمة خلال اليوم الدراسي. . #رؤية_الإمارات #الإمارات #عين_في_كل_مكان

A post shared by رؤية الإمارات Emirates Vision (@evisionmn) on

مندرجہ ذیل چیزیں اس فہرست میں شامل ہیں۔

ہاٹ ڈاگس اور پروسیڈ گوشت

سوڈیم ‘ فیٹ اور مصنوعہ ذائقہ کے انڈومیا

سوکھے میوؤں اور بغیر سوکھے میوؤں کے چاکلیٹ

وہ چاکلیٹ بھی جس میں مصنوعی ذائقہ ‘ ہائی فیٹ اور شکر ملی ہو

میٹھے للی پاپ اور جیلی

الرج ردعمل کو دور کرنے کے لئے تمام مصنوعہ میواجات کی اشیاء

تمام کورن اورالوپ چپس

کاربونیڈ ڈرنکس ‘ جس میں انرجی ڈرنکس بھی شامل ہیں‘ فلور واٹر‘ جوس ‘ ائسیڈ چائے‘ ایسکمو ڈرنکس

کریم کے تمام کیک اور ڈونٹس

نئی گائیڈلائنس بین الاقوامی صحت کے معیارکے ساتھ جاری کئے گئے ہیں جو اسکولوں میں خوراک او رغذائی ضرورت کے نام پر طلبہ میں فروخت کی جاتی ہیں۔تعلیم کے ساتھ بچوں کو صحت مند اور تندرست رکھنے کے لئے آج دور میں اقدامات ضروری ہوگئے ہیں۔

غیرمعمولی چیزوں کا استعمال بچوں کی صحت پر اثر انداز ہورہا ہے۔ ان تمام چیزوں کا خیال رکھتے ہوئے منسٹری نے اسکول انتظامیہ پر زوردیا ہے کہ وہ نئی تحدیدات کے متعلق والدین او رپرستوں کو جانکاری دیں۔

اس کے علاوہ اس بات پر بھی زوردیا گیا ہے کہ والدین ممنوعہ اشیاء بچوں کے ساتھ اسکول نہ بھجیں۔منسٹری کے بیان کے مطابق اسکول آنے سے قبل بچوں کو گھرو ں میں بچوں کو گھر میں ناشتہ فراہم کیاجائے۔

صبح کی اولین ساعتوں میں کھانے سے بچے دن بھر نہ صرف چا ق چوبند رہیں گے بلکہ تعلیم پر بھی وہ توجہہ مرکوز کرسکیں گے۔

اس سے دوسرے طریقے کے ضیابطیس سے بچنے میں مددملے گی اور یہ بچوں کے ہضمہ میں کے لئے بھی بہتر ہوگا

Leave a Comment