یمن کی جنگ علاقہ کیلئے خطرہ : پاکستانی فوج

اسلام آباد ؍ صنعا ۔ 10 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کی طاقتور فوج نے آج کہاکہ یمن کی حساس خانہ جنگی کے علاقائی صیانت پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے جبکہ پاکستانی پارلیمنٹ نے جنگ زدہ ملک میں پاکستان کی فوجی مداخلت کے خلاف متفقہ طور پر رائے دی۔ صنعا سے موصولہ اطلاع کے بموجب ریڈکراس اور اقوام متحدہ نے بذریعہ طیارہ طبی امداد یمن کے دارالحکومت کو آج روانہ کردی جبکہ عدن رات بھر زبردست فضائی بمباری سے جو سعودی عرب کی زیرقیادت کی گئی تھی، بری طرح تباہ ہوگیا۔ اقوام متحدہ نے فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ میں وقفہ دینے کی اپیل کی اور کہا کہ روزانہ کم از کم کچھ وقت کیلئے وقفہ دیا جانا چاہئے تاکہ پریشان حال شہریوں کو امداد فراہم کی جاسکے۔ یہ پہلا طیارہ تھا جو صنعا میں کئی ٹن طبی امداد کے ساتھ اترا ہے۔ ریڈکراس کی ترجمان ماری کلیر نے کہا کہ مقامی شہری اور عدن کے عہدیدار کہہ رہے تھی کہ رات بھر حوثی باغی بمباری کرتے رہے اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار فوجی شہر کے شمالی باب الداخلہ تک پہنچ چکے ہیں۔ 15 دن سے زیادہ وقفہ سے یمن پر سعودی زیرقیادت اتحاد کی جانب سے مخالفین پر بمباری جاری ہے۔ حریف نیم فوجی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کی وجہ سے اقوام متحدہ عارضی جنگ بندی کی اپیل کرنے پر مجبور ہوگیا ہے تاکہ ان افراد کو جو اس کے انتہائی مستحق ہیں، طبی امداد فراہم کی جاسکے۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ قبل ازیں طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔ تاہم یہ کافی نہیں ہے۔ امریکہ نے کہا کہ یمن میں غیرملکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا۔