نئی دہلی 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام)یمن کے دارالخلافہ صنعاء میں حالات مزید کشیدہ ہونے کے بعد ہندوستان نے اپنا سفارتخانہ یہاں سے جبوتی منتقل کردیا ۔ حکومت نے آج لوک سبھا کو مطلع کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہندوستانی شہریوں کو یہاں سے کامیاب تخلیہ کروایا گیا اور اس کے بعد سفارت خانہ کو بھی جبوتی منتقل کرتے ہوئے بتایا گیا کہ یمن سے 6688 افراد کو منتقل کیا گیا جن میں ہندوستانیوں کی تعداد 4741 تھی اور دیگر بیرونی شہریوں کی تعداد 1947 تھی ۔ بذریعہ طیارہ اور بذریعہ بحری جہاز متاثرہ افراد کا تخلیہ کروایا گیا ۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے لوک سبھا کو مطلع کرتے ہوئے یہ بات بتائی اور کہا کہ انہیں یہ اطلاع دیتے ہوئے مسرت ہورہی ہے کہ آپریشن ’’راحت‘‘ واقعتاً سب کیلئے ایک راحت بن چکا ہے کیونکہ جس خوبی اور چابکدستی کے ساتھ یہ آپریشن انجام دیا گیا
اس کی بین الاقوامی سطح پر بھی ستائش کی جارہی ہے ۔ سشما سوراج نے کہا کہ ہمارے لئے صرف یہ فخر کی بات نہیں ہے کہ ہم نے صرف ہندوستانیوں کو بحفاظت تخلیہ کروایا بلکہ 18 اپریل تک انتہائی مشکل اور پیچیدہ حالات کا سامنا کرتے ہوئے 78 ممالک کے 1947 دیگر شہریوں کا بھی تخلیہ کروایا۔ انہوں نے تخلیہ کے عمل کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ صنعا میں ابتر صورتحال کی وجہ سے یہ آپریشن مشکل ہوگیا تھا لیکن ہم نے اس صورتحال کا کامیابی کے ساتھ سامنا کیا اور 15 اپریل کو سفارتخانہ بھی جبوتی منتقل کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں عام حالات کی بحالی تک یہ سفارتخانہ وہیں کام کرتا رہے گا ۔ سشما سوراج نے بتایا کہ ہندوستان کو 33 ممالک بشمول چند پڑوسی اور مغربی ممالک سے ان کے شہریوں کی منتقلی کے لئے مدد کی رسمی درخواست موصول ہوئی ۔ ہم نے ممکنہ حد تک بنیادی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے 48ممالک کے شہریوں کو منتقل کرنے میں مدد کی ۔ ہندوستان کی 27 ریاستوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو یمن سے بحفاظت واپس لایا گیا ۔ ان میں سب سے زیادہ 2527 شہری کیرالا کے ہیں۔ 427 کا تعلق ٹاملناڈو اور 180 شہری تلنگانہ / آندھرا پردیش کے ہیں۔ انہو ںنے منسٹر آف اسٹیٹ امور خارجہ جنرل (ریٹائرڈ) وی کے سنگھ کی ستائش کی جنہوں نے تخلیہ کے اس عمل کی راست نگرانی کی ۔ سشما سوراج نے کہا کہ وی کے سنگھ نے ایک وزیر نہیں بلکہ جنرل کی طرح کام کیا۔
سشما سوراج نے کہا کہ یمن کی ابتر صورتحال کا قبل از وقت اندازہ کرتے ہوئے ہم نے پوری تیاری شروع کردی تھی۔ انہوں نے شخصی طور پر سعودی عرب کے وزیر خارجہ سے بھی بات کی اور تخلیہ کے اس عمل میں مدد کی خواہش کی ۔ وزیر اعظم نے 30 مارچ کو سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز سے فون پر راست بات کی جنہوں نے ہندوستانی شہریوں کے تخلیہ کیلئے ممکنہ مدد کا تیقن دیا ۔ وزارت امور خارجہ نے 24 گھنٹے کنٹرول روم اور ہیلپ لائنس قائم کئے تھے تا کہ یمن میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں اور ہندوستان میں ان کے ارکان خاندان کے مابین رابطہ قائم رہ سکے۔