یرواڑہ جیل میں جرمن بیکری دھماکہ کیس کے مجرم کی زندگی کو خطرہ

ممبئی۔/6مارچ، ( سیاست ڈاٹ کام ) ممبئی ہائیکورٹ نے آج مہاراشٹرا پولیس کو یہ اطلاع دینے کی ہدایت دی ہے کہ 2010ء کے جرمن بیکری دھماکہ کیس کے واحد سزا یافتہ حمایت بیگ کو کسی دوسری محفوظ جیل میں رکھا جاسکتا ہے یا نہیں؟ کیونکہ ملزم نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ یرواڑہ جیل میں اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگیاہے۔ حمایت بیگ کے خلاف سزائے موت کا فیصلہ سنانے کے بعد ممبئی کی آرتھر روڈ سنٹرل جیل میں قید کردیا گیا تھا اور ہائی کورٹ میں سزائے موت کے خلاف اس کی عرضی پر سماعت سے انکار کے بعد اسے گذشتہ سال ایروڑہ جیل پونہ منتقل کردیا گیا۔ تاہم حمایت بیگ نے جاریہ سال اپنے وکیل محمود پراچہ کے ذریعہ ایک اور مرافعہ داخل کرتے ہوئے یہ گذارش کی ہے کہ اسے دوبارہ آرتھر روڈ جیل بھیج دیا

جائے کیونکہ ایروڈہ جیل میں وہ اپنی زندگی کو خطرہ محسوس کرتا ہے۔ جس پر جسٹس وی ایم کنڈے کی زیر قیادت ڈیویژن بنچ نے ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل پولیس ( محابس ) کو یہ ہدایت دی کہ عدالت کو اندرون ایک ہفتہ یہ اطلاع دی جائے کہ حمایت بیگ کو ایروڈہ جیل سے منتقل کرکے کسی دوسری محفوظ جیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ بیگ نے اپنی درخواست میں یہ ادعا کیا ہے کہ ایرواڈہ جیل کا ماحول انتہائی مخاصمانہ ہے اور یہ اندیشہ ہے کہ اس کا بھی حشر جرمن بیکری دھماکہ کیس کے شریک ملزم قتیل صدیقی جیسا ہوگا ۔ اسے جیل کے احاطہ میں اگسٹ 2012ء کو دوسرے قیدیوں نے حملہ کرکے مار دیا تھا۔ واضح رہے کہ پونہ کی مشہور جرمن بیکری میں 13فبروری 2010ء کو ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس میں 17افراد بشمول 5بیرونی شہری ہلاک ہوگئے اور 58افراد زخمی ہوگئے تھے۔ پونے میں سیشن عدالت نے19اپریل 2013ء کو حمایت بیگ کے خلاف موت کی سزا سنائی تھی۔ تاہم حمایت بیگ نے اپنے آپ کو بے قصور قرار دیتے ہوئے ممبئی ہائی کورٹ میں سزائے موت کے فیصلہ کو چیلنج کیا۔ اس کی درخواست معرض التواء ہے۔