شہریوں اور قیدی ملازمین میں بحث و تکرار ، پولیس میں شکایت
حیدرآباد ۔ 26 ۔ جولائی : (سیاست نیوز ) : قیدیوں کی جانب سے چلائے جارہے پٹرول پمپ پر ’ ہیلمٹ نہیں تو پٹرول نہیں ‘ کا طریقہ کار غیر متوقع منفی نتائج فراہم کررہا ہے جیسا کہ حکام نے موٹر گاڑیوں پر سفر کرنے والے شہریوں کو حادثات سے محفوظ رہنے کے لیے ہیلمٹ کے استعمال کی ترغیب کے لیے یہ طریقہ کار اختیار کیا ہے اور چنچل گوڑہ پر قائم کردہ قیدیوں کے پٹرول پمپ پر ہیلمٹ نہیں تو پٹرول نہیں کا نعرہ اختیار کیا گیا ہے ۔ لیکن اس کے مثبت نتائج کے برعکس منفی نتائج برآمد ہورہے ہیں جیسا کہ پٹرول کے لیے آنے والے شہریوں اور یہاں ملازمت انجام دینے والے قیدیوں کے درمیان بحث و تکرار اور توتو میں میں ، آئے دن کا معمول بن رہا ہے ۔ ایک واقعہ میں تو قیدی ملازمین نے مقامی پولیس اسٹیشن سے اپنا معاملہ رجوع کیا ہے ۔ رواں ہفتہ شام کے اوقات جب ایک شخص پٹرول کے لیے آیا تو اس نے ہیلمٹ نہیں پہنا تھا جس پر پٹرول پمپ پر خدمات انجام دینے والی قیدی ملازم نے پٹرول نہیں دیا جس پر وہ شخص ’ہیلمٹ نہیں تو پٹرول نہیں ‘ پالیسی سے چراغ پا ہوگیا اور بحث و تکرار کرنے لگا جس کے بعد قیدی کے افراد خاندان نے پولیس میں اس واقعہ کی شکایت کی ۔ دبیر پورہ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر ڈی وینکنا نائیک نے کہا کہ اجے نامی شخص کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے جو کہ ہیلمٹ کے بغیر پٹرول حاصل کرنے کوشاں تھا ۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بحث و تکرار کیوں ہوئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی خالی ٹینک کے ساتھ بھی پٹرول کی درخواست کرے گا تو بھی اسے پٹرول نہیں دیا جائے گا کیوں کہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے سخت ہدایات جاری ہوئی ہیں نیز پٹرول پمپ پر تعینات قیدی ملازمین کے لیے یہاں سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں ۔۔