100 کروڑ روپئے کے استعمال کے تعلق سے کوئی عہدیدار جواب دینے کے موقف میں نہیں
حیدرآباد 20 جنوری ( سیاست نیوز ) مجلس بلدیہ حیدرآباد کی جانب سے ہیریٹیج عمارتوں کے تحفظ کیلئے حالانکہ 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ خود بلدیہ کے عہدیدار اور متعلقہ عملہ اس رقم کے استعمال کے تعلق سے کوئی جواب نہ دے سکا ۔ ۔ گذشتہ سال اگسٹ میں اس وقت کے مئیر حیدرآباد نے 100 کروڑ روپئے مختص کرنے کا اعلان کیا تھا اور انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ اس وقت ایک ہیریٹیج سیل بلدیہ میں رہنے کے باوجود کارپوریشن فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ہیریٹیج عمارتوں کے تحفظ میں ناکام رہی تھی ۔ وقت گذرنے کے ساتھ اڈیشنل ڈائرکٹر ہیریٹیج کے سرینواس راؤ جو بلدیہ کے ہیریٹیج سیل کے سربراہ ہیں ‘ اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکے کہ اس فنڈ کا استعمال کس طرح ہوا ہے ۔ علاوہ ازیں بلدیہ کے اڈیشنل کمشنر ڈی جئے راج کنیڈی بھی اس تعلق سے کوئی واضح جواب نہیں دے سکے ۔ سرینواس راؤ کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اس طرح کا کوئی فنڈ مختص کیا گیا ہے جبکہ مسٹر کنیڈی کا کہنا تھا کہ اس تعلق سے کسی اور سے سوال کیا جائے ۔ ذرائع نے کہا کہ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کا دفتر ‘ خورشید جاہ دیوڑھی اور چارمینار کے اطراف کی چاروں کمانوں مچھلی کمان ‘ سحر باطل کی کمان ‘ کالی کمان اور چار کمان وہ عمارتیں ہیں جن کی تحفظ کیلئے نشاندہی کی گئی تھی اور اس کام کیلئے ایک کنسلٹنٹ کی خدمات بھی حاصل کی گئی تھی ۔ کہا گیا ہے کہ اس پراجیکٹ کے سلسلہ میں تمام تفصیلی پراجیکٹ رپورٹس بھی تیار ہوگئی تھیں لیکن منتخب بلدیہ کی معیاد ختم ہونے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مجلس بلدیہ صرف مالیہ اور سڑکوں کے تعلق سے فکرمند ہے ۔ ذرائع کے بموجب ان فنڈز کے استعمال کیلئے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی میں ایک زونل دفتر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاکہ اسے سردار محل کی عمارت سے منتقل کیا جائے اور مقامی عوام کیلئے وہاں ٹریننگ پروگرامس بھی شروع کئے جاسکیں۔ اسی طرح خورشید دیوڑھی کیلئے بھی کچھ منصوبے تیار کئے گئے تھے تاہم تمام پراجیکٹس شروع بھی نہیں ہوسکے اور فنڈز کا استعمال نہیں ہوسکا ہے ۔