ہند ۔ چین معاشی تعلقات

ہندوستان اور چین نے باہمی تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دینے کی غرض سے سلسلہ وار یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے ۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدے ایک ایسے وقت ہوئے جب سرحدی تنازعہ سے کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ چین کے ساتھ ہندوستان کی تجارت 2001اور 2002 میں صرف2.09 بلین تھی 2011-12 75-59 بلین کو پہنچ گئی تھی لیکن حالیہ مہینوں میں سرحدی تنازعات کے باعث یا اور عوامل نے تجارت کی شرح کو گھٹا دیا اب یہ تجارت 67.83 بلین پر آکر رکی ہے ۔ آج کی دنیا میں چین کیلئے ہندوستان سے دوستی نہایت ہی اہم اور ضروری تسلیم کی جارہی ہے ۔ چین کی اشیاء کو ایک بڑی مارکٹ کی ضرورت ہے اور ہندوستان نے اپنی مارکٹ کو چین کے لئے کھول دیا ہے تو اس خاص صورت میں معمولی کشیدگی بھی دونوں ملکوں کیلئے معاشی خرابی کا باعث ہوسکتی ہے ۔ وزیر اعظم چین لی کی کیانگ کا دورہ ہند اس کشیدگی کو دور کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے تو اس دورہ کو کامیاب قرار دیا جائے گا ۔ لداخ کے علاقہ میں حالیہ چینی دراندازی سے سیکھے گئے سبق کا جائزہ لیا جارہا ہے مستقبل میں اسی طرح کی در اندازی کے واقعات کو روکنا ناگزیر ہوگا اس کیلئے اگر میکانزم کو مضبوط بنانے اور پیچیدہ سرحدی تنازعہ کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے مذاکرات میں پیشرفت ہوتی ہے تو یہ ایک خوش آئند بات ہوگی ۔ چین میں بھی یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ باہمی احترام کو فروغ دیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے مسائل دور کرلینا ہوگا ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ دونوں ملکوں میں سرحدی مسئلہ کے باوجود کئی دہائیوں سے تعلق اچھے رہے ہیں ۔ اب وزیر اعظم چین نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دوستی کا دست دراز کیا ہے ۔ دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات ہیں ۔ چین کی معیشت کو فروغ محض ہندوستان کی مارکٹ کی موجودگی سے ہورہا ہے ۔ اگر وزیر اعظم چین لی کی کیانگ ایشیاء کو عالمی معیشت کا اہم مرکز تصور کرتے ہیں تو انہیں ہندوستان کے ساتھ سرحدی مسئلہ کو کشیدگی ہونے نہیں دینا چاہئے ۔ دونوں ملکوں کی خوشحالی اور ترقی کیلئے مل جل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ یہ دونوں ممالک ایشیاء کے اہم ترین ملک ہیں برصغیر میں امن کی برقراری میں اہم رول رہا ہے ۔ اس نے قومی و سرکاری سطح پر دونوں ملکوں کو سربراہوں کو درمیانی یا خاص کر چین کے میڈیا کے رول پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی ۔ بعض معاملوں میں چین میڈیا کی وجہ سے بھی کشیدگی کو ہوا ملی ہے ۔ چین کو ایک طرف جاپان کے ساتھ متنازعہ جزائر کا جھگڑا ہے تو دوسری طرف فلپائن سے ٹکراؤ اس لئے وہ بیک وقت اپنے تمام ہمسایہ ملکوں سے ٹکراؤ کی صورتحال کو دیرپا حد تک بنائے نہیں رکھ سکتا اس کا معاشی مفاد اس میں پوشیدہ ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات و تجارت کو اعلی سطح تک لے جائے ۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کے بعد وزیر اعظم چین کی کیانگ نے اہم ترین مقاصد کے ساتھ مفاہمتی مفاد کے دائرہ کو توسیع دینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے ۔ ہندوستان کے ساتھ 8 باہمی معاہدوں پر دستخط ایک اہم بات ہے جس طرح تجارت کو اہمیت دی جارہی ہے اسی طرح علاقائی امن و استحکام بھی باہمی بھروسہ کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ اس پر ساری دنیا کی نظر میں ہیں ۔ دونوں ممالک کی بڑی تجارتی منڈیاں اہمیت رکھتی ہیں ان مارکٹوں نے بھی ایشیاء اور پوری دنیا میں پیدادوار اور خوشحالی کیلئے بے شمار قوت محرکہ تخلیق کی ہیں ۔ اسی طرح یہ دونوں ممالک باہمی تنازعات کو ثمر آور مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ دونوں ملکوں کے سرحدی تنازعہ پر اب تک 15دور کی مذاکرات کئے گئے مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا ۔ تبت کا معاملہ چین داخلی قرار دیتا ہے لیکن اس کو لیت و لعل میں ڈالدینے سے علاقائی آزادی کی تحریکیں زور پکڑلیں گی جیسا کہ وزیر اعظم چین کے دورہ ہند کے خلاف کئی کارکنوں نے مظاہرہ کیا ہے ۔ اس موقع پر وزیر اعظم چین کو تبت کے تعلق سے اظہار خیال کرنے کی ضرورت تھی لیکن انہوں نے اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کے ایجنڈہ میں تبت کو شامل نہیں کیا جب ایشیاء کی ترقی کی بات کرتے ہیں تو علاقائی تنازعہ کی یکسوئی کے بغیر اس ترقی کو ثمر آور نہیں بنایا جاسکتا ۔ دونوں ملکوں نے بڑے پیمانے پر سیول نیوکلیر انرجی پروگرامس بھی بنایا ہے ۔ ماضی میں بھی ہندوستان کے چین کے ساتھ باہمی سیول نیوکلیر تعاون کو فروغ دیا تھا لیکن یہ مسئلہ پھر ایک بار سامنے آیا ہے تو ہندوستان کو اس پر پہلے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ سمندری راستوں میں قزاقی کا مسئلہ اور سمندری علاقوں کی سکیوریٹی کے غیر روایتی خطرات کے خلاف دونوں ملکوں کو باہمی تعاون میں اضافہ سے اتفاق کرنے کے ساتھ اس پر مشترکہ معلومات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا ۔ ایک ماہ قبل لداخ میں جو کچھ ہوا اس کو فراموش کر کے اگر ہندوستان نے چین سے دوستی کی سطح کر مزید بلند کرنے کا قدم اٹھایا ہے تو چین کو اپنے طور پر سرحدی در اندازی کے واقعات کو روکنے اور باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے کیلئے دیانتدرانہ کوشش کرنی ہوگی ۔

Leave a Comment