ہند۔ چین سرحدی تنازعہ، بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کیا جائے

ممبئی /15 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیر قانون و رکن راجیہ سبھا رام جیٹھ ملانی نے نریندر مودی حکومت سے یہ گزارش کی ہے کہ عرصہ دراز سے تصفیہ طلب ہند۔ چین سرحدی تنازعہ کو بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرے، تاکہ کوئی قطعی فیصلہ کیا جاسکے۔ رام جیٹھ ملانی نے کل شب یہاں ایک تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ چین کے پیش نظر ایک مختصر مکتوب روانہ کیا ہے، جس میں انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ ہمیں اپنا حق جتانے کے لئے بین الاعوامی عدالت انصاف کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے۔ ممتاز ماہر قانون نے کہا کہ دیرینہ مسئلہ کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے اور وہ بین الاقوامی عدالت میں ہندوستانی کیس کی نمائندگی کے لئے تیار ہیں، بشرطیکہ حکومت یہ مسئلہ رجوع کرے۔

مسٹر رام جیٹھ ملانی جو کہ ایک سندھی ادیب کو لٹریری ایوارڈ پیش کرنے کی تقریب میں مہمان خصوی تھے، کہا کہ ہم اس مسئلہ پر چین کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے، لیکن قانونی چارہ جوئی کے ذریعہ تنازعہ کا پرامن حل تلاش کرسکتے ہیں۔ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے جاریہ دورہ چین کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ سابق میں چین کا دورہ کرنے والے ایک بھی وزیر اعظم نے ثمر آور نتائج حاصل نہیں کئے، جس میں اٹل بہاری واجپائی بھی شامل ہیں۔ 93 سالہ وکیل و سیاست داں نے جو کہ بیرونی بینکوں میں پوشیدہ ہندوستانیوں کے کالادھن (بلیک منی) کو واپس لانے کے لئے سرگرم عمل ہیں، کہا کہ وہ اس مسئلہ پر تنہا جدوجہد کے لئے تیار ہیں اور انھیں اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ جو لوگ اس جدوجہد میں شامل ہیں، اکیلا چھوڑکر ہی کیوں نہ چلے جائیں۔ مسٹر جیٹھ ملانی نے بتایا کہ اندازہ کے مطابق بیرونی ممالک میں ہندوستانیوں کی دولت 1.500 بلین ڈالرس مماثل 90 لاکھ کروڑ روپئے پوشیدہ ہے اور یہ کالا دھن واپس لانے تک وہ خاموش نہیں رہیں گے۔