ہند۔ عرب تعلقات اہم ، انتہا پسندی فکرمندی کی وجہ

نئی دہلی 21 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) کئی خلیجی ممالک میں تشدد میں اضافہ کے دوران ہندوستان نے آج جنون، انتہا پسندی اور دہشت گردی عرب علاقوں میں عروج پر آجانے پر فکرمندی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اِس سے معاشروں کا تانہ بانہ بکھر جائے گا۔ علاوہ ازیں یہ علاقائی استحکام کو بھی متاثر کرے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ سشما سوراج نے کئی مسائل کا احاطہ کیا جو خلیجی ممالک کو درپیش ہیں اور کہاکہ ہندوستان تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ممالک کی بڑے پیمانے پر ہندوستان میں سرمایہ کاری کا منتظر ہے۔ لیکن ہندوستان کی عالمی معیار کے انفراسٹرکچر کی جستجو بیکار ثابت ہوئی کیونکہ عرب ممالک میں جنون، انتہا پسندی اور دہشت گردی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے

جس سے نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ پورے علاقہ کے ممالک کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ ہندوستان کے لئے بھی مساوی طور پر فکرمندی کی وجہ ہے۔ کیونکہ دونوں علاقوں کے مستقبل کئی اعتبار سے ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ ہمارے قومی اور توانائی کے مفادات یقینی طور پر اہمیت رکھتے ہیں لیکن اِس سے زیادہ انسانیت کی بنیاد پر رشتے کی اہمیت ہے جو عرب ممالک کے ساتھ ہندوستان کا برسوں سے رہا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کویت، قطر اور بحرین کے پاس آزادانہ طور پر کافی دولت موجود ہے۔ اُنھوں نے باہمی تجارت میںمزید اضافہ کی ضرورت پر زور دیا۔ خلیجی علاقہ ہندوستان کی تیل اور گیس کی ضروریات کا 60 فیصد سے زیادہ تکمیل کرتے ہیں۔

اجتماعی طور پر عالم عرب ہندوستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 2012-13 ء میں باہمی تجارت ایک سو ارب امریکی ڈالر سے زیادہ ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس علاقہ میں امن اور استحکام اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ہند ۔ عرب دفاعی مفادات کے لئے بھی یکساں طور پر اہم ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان عدم مداخلت، عدم مشاورت اور عدم تخمینہ کے اُصولوں پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر ہندوستان مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے لیکن اُسے یقین ہے کہ یہ فیصلہ کرنا عرب ممالک کا کام ہے کہ اُن کا مستقبل کیا ہونا چائے۔ بیرونی مداخلت یا بیرونی فرمانوں کے بغیر اُنھیں اپنے طور پر یہ فیصلہ خود کرنا چاہئے۔ اسرائیل ۔ غزہ جنگ کے بارے میں ہندوستان کا موقف دریافت کرنے پر اُنھوں نے کہاکہ ذرائع ابلائع کے گوشوں میں حکومت ہند کے بیانات کی الگ الگ تاویل کی گئی ہے۔ ایسے حساس مسئلہ پر اُلجھن اور غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہیںہے۔