ہند۔ بھوٹان بہتر روابط سے چین غیرمتاثر

بیجنگ ۔16 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) بھوٹان کے ساتھ سفارتی روابط قائم کرنے کی ناکام کوششوں کو زیادہ اہمیت نہ دیتے ہوئے چین نے آج کہاکہ نئی دہلی اور تھیمپو کے مابین باہمی روابط میں استحکام سے اُسے خوشی ہوئی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ بھوٹان سے ان روابط کو ایک نئی جہت ملی ۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا سے بات چیت کے دوران مودی کے اس دورہ کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ جہاں تک چین کے بھوٹان سے روابط کا تعلق ہے ہم نے سفارتی تعلقات قائم نہیں کئے ہیں لیکن ہمارے پڑوسی ممالک دوستانہ تعلقات کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ملک میں دورے بھی کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ ہم بھوٹان کی آزادی ، سالمیت اور یکجہتی کا احترام کرتے ہیں اور اس ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ تعلقات پرامن بقائے باہم کے پانچ اصولوں پر مبنی ہوں گے ۔ بھوٹان اپنے محل و قوع کے لحاظ سے کافی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ ہندوستان اور تبت کے درمیان واقع ہے ۔ 1951 ء میں چین نے تبت پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور اس کی سرحد بھوٹان سے ملحق ہے۔ سرحدی تنازعہ کے باعث بیجنگ اور تھیمپو کے مابین روابط عام طورپر کشیدہ رہے ہیں، تاہم 2012 ء میں اُس وقت کے وزیراعظم چین وین جیا باؤ اور بھوٹان کے ہم منصب جگمی وائی تھینلے نے ریوڈی جنیرو میں اقوام متحدہ کانفرنس کے دوران حیرت انگیز طورپر ملاقات کی تھی۔ دونوں قائدین نے سفارتی روابط قائم کرنے کے لئے آمادگی ظاہر کی اور سرحدی تنازعہ کی یکسوئی کے ساتھ ساتھ باہمی روابط کو مستحکم بنانے کیلئے اقدامات سے بھی اتفاق کیا تھا ۔ بعد ازاں بھوٹان نے اس معاملے میں کوئی پیشرفت نہیں کی تاکہ ہندوستان کے ساتھ کسی طرح کی غلط فہمی نہ ہو اور روابط پر اثر نہ پڑے۔