ہند۔پاک کرکٹ روابط کی بحالی کا حالات پر انحصار

جموں۔14مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کرکٹ روابط کی بحالی کے فیصلہ کا انحصار حالات پر ہوگا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملہ میں وہ کچھ کہنا نہیں چاہتے لیکن ایک بات بالکل واضح ہیکہ حالات کی مناسبت سے فیصلہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کسی بھی طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے معاملہ میں پارٹی پر یقین ظاہر کیا ۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ ہو یا علحدگی پسندی ہو ‘ پارٹی کسی بھی صورتحال سے موثر طور پر نمٹ سکتی ہے ۔ یہی وجہ ہیکہ ساری دنیا وزیراعظم نریندر مودی کو وہ جہاں بھی جائیں عزت کی نظر سے دیکھتی ہے ۔ پاکستان کے ساتھ بہتر روابط کے لئے وزیراعظم کے اقدامات پر تبصرہ کی خواہش پر انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وہ کام کیا جو اب تک کوئی حکومت نہ کرسکی ۔ تقریب حلف برداری میں سارک ممالک کے تمام سربراہان بشمول وزیراعظم پاکستان نواز شریف یہاں آئے ‘ایسی پہل آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کسی نے نہیں کی ۔ انہوں نے ٹائم میگزین میں تین مرتبہ مودی کو نمایاں کئے جانے کی بھی ستائش کی ۔

انہوں نے کہا کہ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں کہ ٹائم میگزین نے اندرون ایک سال تین مرتبہ مودی کی تصویر سرورق پر شائع کی ۔اور تازہ شمارہ میں مودی کو عالمی سیاسی ہیرو قرار دیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ زلزلہ کے بعد نیپال کی ہندوستان نے جو مدد کی وہ غیر معمولی تھی ۔ مودی حکومت کے 26مئی کو ایک سال مکمل ہونے پر کارناموں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے وہ کارنامے انجام دیئے جو پہلے کسی حکومت نے نہیں دیئے ۔ اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو نریندر مودی حکومت نے ایک سال میں جو کام کئے وہ گذشتہ 60 تا 65 سال کے دوران دوسری کسی حکومت کے مقابلہ کافی زیادہ ہیں ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نریندر مودی کی قیادت میں عالمی سطح پر ہندوستان کی امیج بہتر ہوئی ہے ۔ اقلیتوں سے دلچسپی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مخلوط حکومت کی تشکیل اس بات کا ثبوت ہیکہ ملک کی اقلیتی غلبہ والی ریاستیں بی جے پی کے ساتھ محفوظ تصور کررہی ہیں ۔ تمام اقلیتی آبادی والی ریاستوں یہاں تک کہ شمال مشرق بشمول ناگالینڈ میں حکومت کو بی جے پی کی تائید حاصل ہے ۔