چینائی 20 جون (سیاست ڈاٹ کام )این ڈی اے حکومت کی تجویز کہ سرکاری حسابات میں ہندی کو نمایاں اہمیت دی جائے کی ٹاملناڈو میں سخت مخالفت کی جارہی ہے چیف منسٹر جئے للیتا اور یہاں تک کہ بی جے پی کی حلیف سیاسی پارٹیاں ڈی ایم کے کے سربراہ کروناندھی کی تائید میں ہوگئی ہیں اور اس اقدام کی مذمت کررہی ہیں۔ ان سب نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ غیر ہندی داں طبقات پر یہ زبان ’’مسلط ‘‘ کی جارہی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے جئے للیتا نے وزارت داخلہ کی تجویز کو سرکاری زبان قانون 1963 کی ’’لفظاً و معناً‘‘ خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ چیف منسٹر نے نشاندہی کی کہ یہ ’’بہت زیادہ حساس مسئلہ‘‘ ہے جس پر ٹاملناڈو کے عوام خاموش نہیں رہ سکتے کیونکہ وہ اپنے لسانی ورثے پر بہت زیادہ فخر کرتے ہیں اور اس سے خلوص رکھتے ہیں۔سماجی ذرائع ابلاغ اُن کی نوعیت کی بناء پر نہ صرف انٹرنیٹ پر تمام افراد کیلئے قابل رسائی ہے بلکہ یہ ملک کے تمام علاقوں میں رہنے والے افراد کیلئے ترسیل کا ایک ذریعہ بھی ہے۔ علاقہ ’’سی‘‘ میں رہنے والے افراد بھی اس میںشامل ہیں۔ جئے للیتا نے کہا کہ علاقہ سی میں مقیم افراد جن کے ساتھ حکومت ہند کی ترسیلی ضروریات انگریزی کے ذریعہ مکمل ہوتی ہیں عوامی معلومات تک رسائی حاصل نہیں کرسکیں گے اگر زبان انگریزی نہ ہو ۔یہ اقدام چنانچہ سرکاری زبان قانون 1963 کے لفظاً معناً خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ صدر ڈی ایم کے ایم کروناندھی نے جن کی پارٹی نے 1960 کی دہائی میں مخالف ہندی احتجاج کی کامیاب رہنمائی کی تھی اس اقدام کو ’’ہندی مسلط کرنے کے دور ‘‘ کا آغاز قرار دیا۔ اس مسئلہ پر ڈی ایم کے کی کامیابی ریاست ٹاملناڈو میں پہلی غیر کانگریسی حکومت آزاد ہند میں قائم ہونے کی وجوہات میں سے ایک تھی۔ کروناندھی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہندی کو دستور کی انگریزی جدول کی فہرست میں شامل دیگر زبانوں پر کیوں ترجیح دی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندی کو ترجیح دینے کا مطلب یہ ہے کہ غیر ہندی داں عوام کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی سمت یہ پہلا قدم ہے ۔ انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بی جے پی حکومت کے اس اقدام کو اس کی ٹاملناڈو میں دو حلیف سیاسی پارٹیوں ڈی ایم کے اور ایم ڈی ایم کے کی تائید بھی حاصل نہیں ہوسکی ۔ دونوں پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی ہے ۔ ماضی میں ہندی مسلط کرنے کی کوششوں کی سختی سے مزاحمت کی گئی تھی۔بعد میں بھی ایسی کوشش ہوئی تھی۔ڈی ایم کے کے بانی نے تازہ ترین اقدام کو ہندی مسلط کرنے کی ’’نرم کوشش‘‘قرار دیا۔