لکھنؤ ۔ 17 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا سہ روزہ اجلاس جئے پور میں 20 مارچ سے شروع ہورہا ہے۔ ہندو تنظیموں کے متنازعہ ’’گھر واپسی‘‘ پروگرام اور دیگر کئی امور پر اس اجلاس میں غور و خوض ہوگا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا نظام الدین نے کہا کہ جمعیت اور بورڈ نے اس مسئلہ پر اپنا موقف پہلے ہی واضح کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک پروپگنڈہ ہے۔ اگرچہ عام ایجنڈہ میں اسے شامل نہیں رکھا گیا ہے لیکن اجلاس میں اس مسئلہ پر بھی غور و خوض ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کل یہی تنظیمیں تمام عیسائیوں سے مطالبہ کریں گی کہ وہ ہندو بن جائیں۔ اس کے بعد دوسرے دن تمام مسلمانوں سے کہا جائے گا کہ وہ ہندو بن جائیں۔ یہ صرف ایک مذاق ہے؟ یہ سارے فرقہ کی توہین کے مترادف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس کا ایجنڈہ عمومی نوعیت کا ہے اور اس طرح کے متنازعہ مسائل کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک سیکولر ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والے عرصہ دراز سے مل جل کر رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے لیکن عمومی طور پر ان مسائل کو ایجنڈہ میں شامل نہیں رکھا گیا ہے لیکن کوئی یہ سوال اٹھائے تو بورڈ اس کا جواب دے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے حکومت مہاراشٹرا کی جانب سے بیف پر امتناع کو ’’سیاست‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک سیاست ہے۔ مہاراشٹرا کا معاملہ ہو یا کولکتہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دوسرے لوگ بھی بیف (بڑے جانور کا گوشت) کھاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں سے وابستہ نہیں ہے بلکہ امتناع کے باعث کئی افراد اور کمپنیوں کا روزگار متاثر ہوگا۔ مولانا نظام الدین نے بتایا کہ اجلاس کے ایجنڈہ میں مختلف موضوعات جیسے ’’نکاح‘‘ اور ’’طلاق‘‘ سے متعلق ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ میں زیر تصفیہ مقدمات شامل ہیں۔ کئی مسلم نوجوان جیلوں میں محروس ہیں اور ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی اب تک شروع نہیں ہوئی ۔ یہ انصاف نہیں، اگر وہ خطاوار ہیں تو انہیں سزا دی جائے یا پھر انہیں رہا کردینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’طلاق‘‘ کے مسئلہ پر کئی شرائط مسلط کی جارہی ہیں جو شرعی قانون سے مطابقت نہیں رکھتی۔
بیشتر مقدمات میں خواتین گھریلو تشدد یا کسی اور مسئلہ پر طلاق کی طلبگار ہوسکتی ہیں۔ بسا اوقات باہمی رضامندی سے ایسا کیا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کے اس بیان پر کہ تمام ہندوستانی ہندو تھے، انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا کہنے دیجئے۔ کیا آپ کسی ایسے شخص کی بات سے اتفاق کریں گے جو دن کو رات کہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ یہ وزیراعظم کو سوچنا چاہئے کہ جب خود ان کے لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں تو کیا اثر مرتب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ نعرہ کو حقیقی شکل کس طرح دی جائے گی۔ کیا مسلمانوں کو ہندو کہنے سے وہ ہندو بن جائیں گے؟ انہوں نے کہا کہ سناتھن دھرم والوں کو چاہئے کہ وہ خود کو ہندو قرار دیں۔ عرب میں ہندوستان سے آنے والوں کو ہندی کہتے ہیں۔ ہم بھی خود کو ہندوستانی لیکن مذہبی اعتبار سے مسلمان کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ ملک کو بیروزگاری، غربت اور ناخواندگی جیسے بڑے مسائل درپیش ہے، اس طرح کے پروپگنڈہ کی قطعی ضرورت نہیں۔