گھوٹکی،25مارچ (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے گھوٹکی علاقے میں دو ہندونابالغ بہنوں کو اغوا کرکے ،زبردستی ان کا مذہب تبدیل کراکے ان کا نکاح کرانے کے معاملے میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس معاملے میں تعاون کرنے والے ایک شخص اور نکاح میں شریک ہونے والے لوگوں کو گرفتار کرلیاہے ۔اس دوران گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر اور سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ فاروق لانجھر نے دونوں بہنوں کے رشتہ داروں سے ان کے مکان پر جاکر ملاقات کی۔مسٹر لانجھر نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر نکاح کرانے والے اور اس میں شریک ہونے والے لوگوں سمیت کچھ لوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم موصول اطلاع کی بنیاد پر اس معاملے کی تحقیق کررہے ہیں۔پولیس کے مطابق دونوں بہنوں کو اغوا کرنے کا معاملہ دہارکی تھانے میں درج کیاگیا ہے ۔اس دوران 22مارچ کو دونوں اپنے نکاح کے بعد سب کے سامنے آئیں اور کہا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے ۔پاکستان میں دو ہندو نابالغ بہنوں کو زبردستی مسلمان بنائے جانے کے واقعہ نے جب طول پکڑا تو وزیراعظم عمران خان کو مجبور ہوکر اتوار کو سندھ اور پنجاب حکومتوں کو مل کر ان دونوں لڑکیوں کو صحیح سلامت واپس لانے اور پورے معاملے کی تحقیق کرنے کا حکم دینا پڑا ۔اس دوران دونوں بہنوں نے اپنی سکیورٹی کے لئے بہاول پور کی عدالت میں اپیل کی ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ دونوں نابالغ لڑکیوں کو اغوا کرکے انہیں زبردستی مسلمان بنایا گیا اور اس کے بعد ان کا نکاح مسلمان لڑکوں سے کرادیاگیا۔ عمران خان حکومت نے دونوں سگی بہنوں کو گھوٹکی سے رحیم یار خان بھیجے جانے کے واقعہ کی بھی تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر گزشتہ دو دنوں سے وائرل دونوں نابالغ لڑکیوں کے والد اور بھائی کے ویڈیو کے مطابق دونوں بہنوں کو اغوا کرلیا گیا ہے اور زبردستی ان کا مذہب تبدیل کراکر انہیں مسلمان بنایا گیا ہے ۔اس دوران ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہورہا ہے جس میں دونوں بہنیں کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے ۔