ہندوؤں کی نعشوں پر مودی کو اقتدار ملا، مگر اب تمام وعدے فراموش:تو گاڑیہ

احمدا ٓباد(گجرات)۔ 17اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وشو ہندو پریشد ( وی ایچ پی ) کے سابق کارگزار صدر پروین توگاڑیہ نے آج سے یہاں مرن برت ہڑتال کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی ، بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت حملہ کیا اور مودی پر کروڑوں ہندوؤں سے وعدہ خلافی اور سابق حکومت میں مخالفت والے معاملوں پر یو ٹرن (رخ بدلنے ) لینے والے کا الزام لگایا ۔ انھوں نے کہا کہ ان کا مودی سے ان کا کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے ۔ سخت تیور والی تقریر کے دوران اجودھیا اندولن کا ذکر کرتے ہوئے توگاڑیہ نے کہا کہ مودی حکومت ،ہندوؤں کی نعشوں پر اقتدار میں آئی ہے ۔ توگاڑیہ نے یہاں پالڈی میں واقع ڈاکٹر ورنیکر بھون میں رام مندر کیلئے قانون گاؤ رکشا سمیت دیگر معاملوں پرسادھو سنتوں کیساتھ اپنے مرن برت کی شروعات کرنے کے بعد اپنی خطاب میں کہا کہ وہ ان مانگوں پر اڑے رہے جن کا وعدہ کرکے بی جے پی اقتدار تک پہنچی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ’’انہیں رام مندر کا مطالبہ کرنے یا وی ایچ پی کو چھوڑ دینے کیلئے کہا گیا تھا ۔ وہ سر کٹا سکتے ہیں لیکن ہندوؤں سے غداری نہیں کر سکتے ۔مودی حکومت نے نہ صرف اب تک ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا بلکہ کروڑوں ہندوؤں اور بی جے پی ، سنگھ پریوار اور وی ایچ پی کے چھوٹے چھوٹے چندے والے کروڑوں تاجروں سے سے بھی وعدہ خلافی کی ہے انھوں نے کہا کہ ان کا مودی سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں ہے ۔

بار بار ’’من کی بات ‘‘کرنے والے مودی کو عوام کو یہ بتانا چاہئے کہ ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے ۔ ہمار انہ تو چیف منسٹر ، وزیر اعظم کے عہدہ کیلئے تنازعہ ہے اور نہ کوئی جائیداد کا جھگڑا ہے ۔ میں آج جو بات کہہ رہا ہوں وہی مودی چار سال پہلے کرتے تھے لیکن حکومت بن جانے کے بعد انھوں نے کوئی وعدہ پورا نہیں کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ جب منموہن سنگھ کی حکومت تھی تب مودی ایودھیا میں رام مندر بنانے کیلئے پارلیمنٹ میں قانون بنانے پر میرے ساتھ بیٹھ کر تالیاں بجاتے تھے ۔ 2014ء میں اقتدار میں آنے کے بعد اب اس معاملے کی عدالت کے سامنے پیش ہونے کی بات کرنے والے مودی یہ بتائیں کہ جب 1986 ء میں رام جنم بھومی کا تالا کھلا تھا یا مندر کیلئے لال کرشن اڈوانی کی 1990ء کی یاترا یا کسی دوسرے آندولن کے دوران کیا یہ معاملہ عدالت میں نہیں تھا ۔ توگاڑیہ نے کہا کہ اگر ان کا مودی کے ساتھ ذاتی جھگڑا ہوتا تو وہ 2001ء میں خودگجرات کے چیف منسٹر ہوتے ۔ اگر انھیں عز ت کی فکر ہوتی تو وہ پہلے سے ہی ڈاکٹر تھے ۔انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ سابق حکومتوں کے دوران بی جے پی منریگا ، جی ایس ٹی ، خردہ زمرے میں ایف ڈی آئی ، پاکستان کیخلاف غیر یقینی رویہ سمیت جن مسائل کی مخالفت کیا کرتی تھی ، اب مودی حکومت نے ان سے یو ٹرن لے لیا ہے ساتھ ہی ان کی طرفدار بھی ہو گئی ہے ۔

حکو مت کی نوٹ بندی اور جی ایس ٹی سے 70% گھریلو صنعتیں بند ہوچکی ہیں۔ انھوں نے پٹرول کی اونچی قیمت ، پاکستان کو سب سے زیادہ طرفدار ملک کا درجہ دینے ، بیروزگاری ، علاج ، کشمیری ہندوؤں کی تاحال بازآبادکاری نہ ہونے جیسے مسائل پر بھی حکومت پر حملے کئے ۔ توگاڑیہ نے کہا کہ سری لنکا ،ہندوستان سے پٹرول خرید کر سستی قیمت پر فروخت کرتا ہے جبکہ یہ ہندوستان میں 80 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہے ۔ اس میں تقریبا 40 روپئے ٹیکس کا ہی ہے ۔ توگاڑیہ نے کہا کہ مودی نے 4سال میں اپنے وعدے پورے نہیں کئے۔ اگر ایودھیا میں رام مندر بنے گا تو کیا توگاڑیہ کا بنے گا ، یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آج بھی حکومت کے پاس جو اقتدار ہے اس کیلئے ہزاروں ہندو جیلوں میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔ میں اپنا سر کٹا لوں گا لیکن ہندوؤں سے غداری نہیں کرسکتا ۔وی ایچ پی کے سابق لیڈر نے یہ بھی کہا کہ وہ 100 کروڑ ہندوؤں کی آواز دبانے کی کوشش کیخلاف اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے ۔ ان کی حمایت میں حیدرا ٓباد ، ناگپور ، کوچی ، تیرواننتاپورم اور لکھنؤ جیسے مقامات پر بھی بھوک ہڑتال ہو رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ پورے ملک کے عوام ہے ۔انھوں نے عوام کو رام مندر مسئلہ ، کئی ریاستوں میں پیدا ہوئی نقدی بحران پر بحث کرتے ہوئے توگاڑیہ نے کہا کہ اس کیلئے بینک ملازمین ذمہ دار نہیں بلکہ نیرو مودی ، وجے مالیہ جیسے لوگ بینکوں کا 8 لاکھ کروڑ روپے غبن کر فرار ہو گئے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ایسی صورت حال پیدا ہو رہی ہے ۔اتنی بھاری رقم سے کسانوں کی قرضے معاف اور دیگر وعدے پورے کئے جا سکتے تھے ۔ حکومت ہر سال ایک کروڑ روزگا ر دینے کے معاملے میں بھی ناکام رہی ہے ۔ 5 لاکھ کشمیری ہندو آج تک بھی آباد نہیں ہوسکے ۔ 3 کروڑ بنگلہ دیشی در اندازوں کو نکالنے کی بجائے روہنگیا مسلمانوں کو آباد کیا جا رہاہے ، کسان خود کشی کر رہے ہیں،فوجیوں کو آئے دن پاکستان موت کے گھاٹ اُتار رہا ہے لیکن پاکستان کو سبق سکھانے کیلئے مودی کے پاس 56 انچ کا سینہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کو سب سے پسندیدہ ملک کا درجہ دیا گیا ہے۔

رام مندر کی تعمیر کیلئے پروین توگاڑیہ کی بھوک ہڑتال کا آغاز
احمدآباد 17 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے سابق صدر پروین توگاڑیہ نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر اور دیگر مختلف مطالبات کی تائید میں آج یہاں اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا آغاز کیا۔ 62 سالہ سخت گیر ہندوتوا لیڈر نے کلیدی تنظیمی عہدہ کے انتخاب میں ان کے نامزد کردہ امیدوار راگھوا ریڈی کی شکست کے بعد گزشتہ ہفتہ وی ایچ پی کے بین الاقوامی صدر کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اُنھوں نے پلاڈی میں وی ایچ پی ہیڈکوارٹرس کے باہر چند ہندو سخت سادھوؤں اور حامیوں کے ساتھ غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی۔ توگاڑیہ نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ ہندوؤں کی فلاح اور اپنے مطالبات پر توجہ دلانے کے لئے یہ بھوک ہڑتال کررہے ہیں۔ ان کے مطالبات میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر، گاؤکشی پر ملک گیر امتناع، یکساں سیول کوڈ کا نفاذ اور جموں و کشمیر سے بیدخل کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری شامل ہے۔ سرجن سے شعلہ بیان ہندوتوا لیڈر بننے والے پروین توگاڑیہ نے دائیں بازو کی سخت گیر تنظیم وی ایچ پی چھوڑنے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی کو بھی سخت ترین تنقید کا نشانہ بنایا۔ قبل ازیں اُنھوں نے جی ایم ڈی سی گراؤنڈ پر غیر معینہ مدت کا برت رکھنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پولیس نے اجازت دینے سے انکار کردیا جس کے نتیجہ میں اُنھوں نے صبح کی اولین ساعتوں میں وی ایچ پی ہیڈکوارٹرس کے باہر اپنی بھوک ہڑتال شروع کی۔ ہماچل پردیش کے سابق گورنر وی ایس کوکجے نے توگاڑیہ کی طرف سے نامزد کردہ امیدوار راگھو ریڈی کو شکست دے کر وی ایچ پی کے بین الاقوامی صدر منتخب ہوئے تھے جس کے بعد توگاڑیہ نے اس تنظیم کو چھوڑ دیا جس سے کئی دہائیوں تک وابستہ رہے تھے۔