ہندوؤں کی آبادی میں اضافہ کے بغیر اقتدار پر قبضہ برقرار رہیگا

ممبئی۔/20جنوری، ( سیاست ڈاٹ کام ) شیو سینا نے آج سوامی واسودیو آنند کے اس بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ ہر ایک ہندو خاندان کو 10بچے پیدا کرنا ہوگا، کہا کہ سوامی جی کو بی جے پی لیڈروں کی ٹیم میں شامل ہونے سے گریز کرنا چاہیئے جن کے بیانات سے تنازعہ پیدا ہورہا ہے۔ شیوسیناترجمان ’سامنا‘ کے ایک اداریہ میں کہا گیا ہے کہ ہندوؤں کے اتحاد کی بدولت نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ کی کرسی نصیب ہوئی ہے اور ہندوؤں کو 10بچے نہ ہونے کے باوجود بی جے پی کو اکثریت حاصل ہوئی ہے اور آئندہ 5سال بعد بھی یہی منظر رہے گا۔ اداریہ میں یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ نریندر مودی کو دوبارہ وزیر اعظم بنانے کیلئے آیا ہمیں ہر ایک خاندان میں 10بچوں کی ضرورت ہے؟ بعض بی جے پی لیڈرس اور ارکان پارلیمنٹ مسلسل قابل اعتراض بیانات دے رہے ہیں جس کے باعث حکومت کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے حتیٰ کہ مذہبی قائدین ساکشی مہاراج ایم پی اور مرکزی وزیر نرنجن جیوتی نے اپنے متنازعہ بیانات کے ذریعہ اپوزیشن کو ایک ہتھیار فراہم کردیا ہے جس کے ذریعہ وہ حکومت پر حملہ کررہے ہیں۔ اخبار نے بی جے پی کو متنبہ کیا ہے کہ اس روش سے باز آجائے اگرچیکہ سیاسی لیڈروں کی بیان بازی ایک عام بات ہے لیکن شنکر آچاریہ واسودیو آنند سرسوتی کے بیان سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ ایک برہمچاری ( سادھو ) عالمی مسائل پر فکر مند ہے۔ گوکہ ان کے ارادے نیک ہوں لیکن انہیں اب خاموش رہنا چاہیئے۔ کم از کم شنکر اچاریہ جیسے مذہبی پیشوا کو سیاسی لیڈر کی طرح اظہار خیال نہیں کرنا چاہیئے جنہوں نے اشتعال انگیز تبصرے کئے ہیں۔ واضح رہے کہ بھدرک آشرم کے واسودیو آنند نے الہ آباد کے میگھ میلہ میں ہندوؤں کو 10بچوں کی پیدائش کا متنازعہ مشورہ دیا تھا۔ قبل ازیں ساکشی مہاراج نے کہا تھا کہ ہندو خواتین کو 4بچے پیدا کرنا چاہیئے جبکہ سادھوی نرنجن جیوتی نے ایک جلسہ میں غیر شائستہ الفاظ استعمال کرکے تنازعہ کا مرکز بن گئی تھیں۔