ہندوستان کے کسی بھی آئندہ وزیر اعظم کے ساتھ کام کرنے کے لئے امریکہ تیار

نیویارک /9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے آج کہا کہ وہ ہندوستان کے کسی بھی آئندہ وزیر اعظم کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرنے کا متمنی ہے۔ ان تبصروں کی تشریح یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اگر مودی وزیر اعظم بنتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ بھی کام کرنے کے لئے تیار ہو سکتا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کی نائب ترجمان میری ہارف نے ایک سوال پر جواب دیا کہ ’’مختلف موضوعات کی طویل فہرست پر ہندوستان کی کسی بھی آئندہ حکومت کے ساتھ کام کرنے کے متمنی ہیں‘‘۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ نریندر مودی کی قیادت میں نئی حکومت کے قیام کی صورت میں امریکہ ہندوستان کے ساتھ کس طرح کام کرنے کی توقع رکھتا ہے؟۔ اس سوال پر کہ آیا مودی کو اگر وہ وزیر اعظم بنتے ہیں تو امریکہ کی طرف سے مدعو کیا جائے گا اور ان کے ویزا کا مسئلہ کس طرح حل کیا جائے گا؟۔ میری ہارف نے جواب دیا کہ ’’ہندوستان کا خواہ کوئی بھی وزیر اعظم بنے، ہم ان سے قریبی تعاون کے ساتھ کام کریں گے۔ میں اس بات کی ضمانت دیتی ہوں، مجھے یقین ہے کہ یہاں ان کی اور ہماری ملاقاتیں ہوں گی‘‘۔ گجرات میں 2002ء کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بنیاد پر امریکہ نے 2005ء میں مودی کو اپنا ویزا جاری کرنے سے انکار کردیا تھا، جب انھوں نے اس (ویزا) کے لئے درخواست کی تھی۔

میری ہارف نے ڈیجیٹل ویڈیو کانفرنس کے دوران امریکی خارجہ پالیسی بیان کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’’ہندوستان کے ساتھ امریکہ مختلف امور و مسائل پر کام کر رہا ہے، خواہ کوئی بھی (ہندوستانی) انتخابات میں فاتح ہوگا، ہم بدستور انتخابی عمل پر نظر رکھیں گے۔ فی الحال ہم انتظار کریں گے اور دیکھیں گے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ انتظار کرے گا اور دیکھا جائے گا کہ نتائج کیا برآمد ہوتے ہیں اور انتخابی عمل کی تکمیل کے بعد ہی تفصیلی طورپر اپنا نظریہ بیان کریں گے۔ میری ہارف نے کہا کہ ہند۔ امریکہ تجارت 100 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہے، اس میں مزید اضافہ کی گنجائش ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف ہندوستان بلکہ امریکی تجارت اور امریکی ورکرس کو بھی مدد ملے گی۔ میری ہارف نے مزید کہا کہ چنانچہ یہ ایک مقام ہے،

جہاں ہم چاہتے ہیں کہ باہمی طورپر کام جاری رکھا جائے۔ دوسری اہم بات عوام سے عوام کی سطح پر تعلقات ہیں۔ ہمارے پاس صرف اس سال ہی تقریباً 1,13,000 ہندوستانی طلبہ حصول تعلیم کے لئے پہنچے ہیں، جو چین کے بعد دوسرے مقام پر ہیں۔ عوام سے عوام کی سطح پر مشترکہ کام سے یقیناً ہم دونوں ملکوں کا فائدہ ہوگا۔ بی جے پی کے انتخابی منشور میں نیو کلیئر پالیسی کے مسئلہ سے متعلق ایک سوال پر میری ہارف نے کہا کہ امریکہ فی الحال انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ نتائج کے بعد دیکھا جائے گا کہ (ہندوستانی) حکومت کیا ہوگی اور خواہ کوئی بھی برسر اقتدار آئے، ہم ان کے ساتھ ان تمام مسائل پر بات چیت کریں گے، جن پر ہمیشہ بات چیت کی جاتی رہی ہے اور آنے والے مسائل پر بھی گفت و شنید ہوگی۔ امریکی دفتر خارجہ کی نائب ترجمان نے تاہم کہا کہ ’’فی الحال انتخابی عمل سے آگے جانا نہیں چاہتیں‘‘۔