ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے ناجائز دولت کا استعمال

نئی دہلی ۔ 11 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت نے جب سے بیرونی ممالک میں پوشیدہ کالا دھن واپس لانے کا اعلان کیا ہے اس وقت سے بلیک منی کا مسئلہ میڈیا کی سرخیوں میں چھایا ہواہے ۔ غیر ملکی بینکوں میں جن افراد کے خفیہ کھاتے ہیں، ان میں تاجرین ، اسپورٹس کھلاڑی ، فلمی اداکار اور سیاستدان شامل ہیں لیکن بیرونی بینکوں میں خون آلود رقم 2.4 ٹریلین ڈالر بھی پوشیدہ رکھی گئی ہے جسے دہشت گردوں اور منشیات کے تاجروں نے محفوظ کردیا ہے ۔ کالا دھن میں یہ حیرت انگیز پہلو کا اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے۔ ہندوستان کے فینانشیل انٹلیجنس یونٹ نے یہ سرسری جائزہ پیش کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان سے سرگرم دہشت گرد اور منشیات کے تاجرین نے بیرونی ممالک کے بینکوں میں 10595 کروڑ روپئے محفوظ کروائے ہیں اور یہ رقم ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کیلئے استعمال کی جارہی ہے ۔ بلڈ منی انویسٹگیشن میں پتہ چلا ہے کہ یہ بھاری رقم مختلف چیانلوں بشمول اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ سے حاصل کی گئی ہے۔ پاکستانی دہشت گردوں بشمول داؤد ابراہیم نے جعلی کرنسی ، جسم فروشی اور فلموں کے نقلی سی ڈیز جسے ناجائزطریقہ سے یہ دولت حاصل کی ہے

اور یہ دولت قتل و خون کا بازار گرم کرنے کیلئے استعمال کی جارہی ہے اور یہ ناجائز رقم بیرونی بینکوں میں ان کے ایجنٹس کے ذریعہ پہنچائی جارہی ہے جبکہ بیشتر بینکس بغیر کسی پوچھ تاچھ کے یہ رقم قبول کر رہے ہیں اور HSBC کے رقمی معاملت کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ اس کے یہاں رقم جمع کروانے والوں سے ان کے ذرائع اور وسائل کے بارے میں دریافت نہیں کیا جاتا اور خود بینک نے بھی یہ اعتراف کیا کہ کھاتہ داروں سے رقم کی تفصیلات طلب نہیں کی جاتی جس سے بینک کے لین دین کے نظام میں خامیوں اور کوتاہیاں آشکار ہوتی ہیں چونکہ کئی ایک بینکس رقمی معاملتوں کی چھان بین نہیں کرتے۔ وہ خطرناک مجرموں اور دہشت گردوں کا غیر محسوس طریقہ سے آلہ کار بن جانے میں HSBC کا معاملہ سب سے پہلے امریکہ نے بے نقاب کیا تھا

لیکن اب اسی نوعیت کا مسئلہ اب ہندوستانی اداروں کو بھی درپیش ہے۔ دہشت گردوں کو یہ معلوم ہے کہ غیر ملکی بینکوں میں بھاری رقومات محفوظ رکھنا آسان ہے کیونکہ خانگی بینکوں میں مسابقت ، کھاتہ داروں کے بارے میں چھان بین سے گریز اور دیگر عوامل ان کیلئے کارآمد ثابت ہورہے ہیں۔ علاوہ ازیں بیرونی بینکوں میں کھاتہ داروں کے بارے میں انتہائی رازداری برتی جاتی ہے اور کسی دوسرے کو اطلاعات فراہم نہیں کی جاتی جس کا پورا پورا فائدہ دہشت گرد اور منشیات کے سرغنے اٹھا رہے ہیں اور درمیانی آدمیوں کے ذریعہ جعلی دستاویزات اور فرضی اداروں کے نام سے یہاں کھاتے کھولے جاتے ہیں جس کے باعث انٹلیجنس عہدیداروں کو کھاتہ دار کی اصلیت کا پتہ چلانا مشکل ہوجاتا ہے۔ دہشت گرد اپنے کھاتوں کا بھی خفیہ نام رکھتے ہیں جس میں ایک خونی ہیرا (Blood Diamond) بھی ہے اگرچہ یہ کوئی مالیاتی ادارہ نہیں ہے بلکہ دہشت گرد، ہندوستانی ڈائمنڈ مارکٹ میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے ناجائز طریقہ سے دولت حاصل کرتے ہیں جس کا انکشاف 26/11 حملوں کی تحقیقات میں ہوا تھا۔