ہندوستان کی انقلابی تبدیلی میں اپنا حصہ ادا کرنے این آر آئیز سے خواہش

گاندھی نگر 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج ہندوستانی برادری سے اپیل کی کہ ملک کی انقلابی تبدیلی میں اپنا حصہ ادا کریں۔ جیسا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا نظریہ ہے۔ وہ یہ کام سرمایہ کاریوں کے ذریعہ کرسکتے ہیں۔ خاص طور پر حکومت کے اقدامات جیسے ’’میک اِن انڈیا‘‘ اور ’’سوچھ بھارت‘‘ اسکیموں میں حصہ لے کر کرسکتے ہیں۔ تیرہویں بھارتیہ پرواسی دیوس سے خطاب کرتے ہوئے سوراج نے کہاکہ حکومت کئی اقدامات کررہی ہے تاکہ اِس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ہندوستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کرنا زیادہ سادہ اور زیادہ آسان بنایا جاسکے۔ آئندہ چند سال میں غیر ملکی سرمایہ کاری ضروری ہوجائے گی۔ اِس لئے ہم نوجوان پرواسی ہندوستانی شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہندوستان کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ہندوستان کے مستقبل کے بارے میں خواب کی تعبیر بنیں۔

اُنھوں نے کہاکہ حکومت ہند نے کئی اقدامات کئے ہیں جن میں ہندوستان میں انقلابی تبدیلی لانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آیئے ہم سے مربوط ہوجایئے، جشن منایئے اور ہندوستان کی انقلابی تبدیلی میں اپنا حصہ ادا کیجئے۔ سشما سوراج نے کہاکہ حکومت نے میک اِن انڈیا ، جن دھن یوجنا، گنگا کی صفائی کی مہم، سوچھ بھارت ابھیان کا آغاز کیا ہے جو ملک کے منظر کو بڑے پیمانے پر تبدیل کردے گا لیکن اِس کے لئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کاروبار کرنے کی صورت میں حکومت ہند نے طریقہ کار کو سادہ، معقول بنانے ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافہ کرنے اور ایسی قانون سازیوں کو منسوخ کرنے جن کی ضرورت نہیں ہے، کئی اقدامات کئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ انفراسٹرکچر اور انفراسٹرکچر کے لئے مالیہ کی فراہمی پر واضح طور پر توجہ مرکوز ہے۔ حکومت اعلیٰ ترین شفافیت اور یکجہتی کے معیاروں کی پابند ہے۔ سشما سوراج نے کہاکہ معیشت میں نیا تحرک پیدا ہوگیا ہے

اور مرکز پر طاقتور حکومت کے قیام اور اِس کے سرمایہ کار دوست اقدامات کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں جوش اور ولولہ پایا جاتا ہے۔ حکومت اِس سلسلہ میں مہم کے طور پر سرگرم ہے۔ اُنھوں نے این آر آئیز سے اپیل کی کہ وہ اِس مہم میں اپنا حصہ ادا کرکے شامل ہوجائیں۔ 24 سال کی عمر میں گاندھی جی کے ملک گیر سفر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ نوجوان این آر آئیز کے لئے اُن سے سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے اور وہ ملک کی ترقی میں نمایاں حصہ ادا کرسکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک کے مالا مال ثقافتی اور تمدنی ورثے پر این آر آئیز جشن مناسکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان نے دنیا کو صفر سے روشناس کروایا۔ آیوروید کے ذریعہ طبی علم فراہم کیا اور ٹیکسیلا یونیورسٹی میں دور قدیم کے ہندوستان میں بھی اعلیٰ معیاری تعلیم دی جاتی تھی۔ اِن کے علاوہ جلسہ سے وزیر مملکت برائے اُمور نوجوانان و اسپورٹس سربانند سونووال نے بھی خطاب کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ نوجوانوں کو ہندوستانی اقدار کا اور خاندان کی اہمیت کا تحفظ کرنا چاہئے۔