100 اسمارٹ سٹی بنانے حکومت ہند کے منصوبہ کے لیے انفراسٹرکچر کی فراہمی
حیدرآباد ۔ 9 ڈسمبر ۔ ( سیاست نیوز) قطر سے تعلق رکھنے والی کمپنی نے ہندوستان میں ایک لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آئندہ پانچ برسوں کے دوران کی جانے والی ایک لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری میں ریاست آندھراپردیش کو بھی کافی سرمایہ حاصل ہونے کی توقع ہے ۔ قطری شہزادے حمد بن ناصر الثانی نے فیصلہ کیا ہے کہ نئی سرمایہ کاری پالیسی کے مطابق آئندہ پانچ سالوں کے دوران ہندوستان میں ایک لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے اور اس سرمایہ کاری کو ہندوستان کے 10 اسمارٹ شہروں میں تقسیم کرتے ہوئے منصوبہ بند انداز میں سرمایہ کاری کی جائے ۔ قطری شہزادے نے جن شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی دکھائی ہے اُن میں ساحلی علاقے ، رئیل اسٹیٹ ، ایرپورٹ کے علاوہ دیگر شعبہ جات شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں حمد بن ناصر الثانی نے این آر ایس انٹرپرائز پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام سے ایک کمپنی قائم کی ہے جس کے ذریعہ یہ سرمایہ کاری کی جائے گی۔ 22 نومبر کو چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرابابو نائیڈو کی قطری وفد سے ملاقات کے علاوہ 20 نومبر کو چیف منسٹر اُترپردیش اکھلیش یادو سے ملاقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ قطری شہزادے کی جانب سے صحت عامہ ، تعلیم ، انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ ، شمسی توانائی کے علاوہ دیگر ترقی پذیر شعبہ جات میں سرمایہ کاری کی جائے گی اور پہلے پراجکٹ کا آغاز فبروری یا مارچ 2015 ء کے دوران کردیا جائے گا ۔ مرکزی حکومت نے جو ملک میں 100 اسمارٹ سٹی کا منصوبہ تیار کیا ہے اُس کیلئے انفراسٹرکچر وغیرہ کی فراہمی کے علاوہ دیگر ضروریات کی تکمیل کی منصوبہ بندی بھی تیزی سے جاری ہے ۔ حمد بن الثانی نے حالیہ دنوں میں کنگ کرافٹ فریمس 24 پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام سے ایک مشترکہ وینچر کا آغاز کیا ہے جو کہ کان کنی کے علاوہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں دلچسپی دکھارہے ہیں ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب آندھراپردیش میں اسمارٹ سٹی پراجکٹ کی تکمیل کیلئے 60 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کی توقع ہے جبکہ اترپردیش میں 12000 کروڑ کی سرمایہ کاری کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے ۔ 38000 کروڑ کی سرمایہ کاری قدرتی گیس ، برقی کے علاوہ دیگر شعبہ جات میں کئے جانے کی توقع ہے ۔ قطری شہزادہ کی جانب سے ایک لاکھ کروڑ کی ہندوستان میں سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کئے جانے کے بعد ہندوستان میں 100 اسمارٹ سٹی کے پراجکٹ کی رفتار میں مزید تیزی پیدا ہوسکتی ہے ۔