ہندوستان اور چین کاسرحدی تنازعہ کی یکسوئی کا عہد

وزیر اعظم مودی اور چینی ہم منصب لی کیقیانگ کا وسیع تر موضوعات پر 90 منٹ تبادلہ خیال

بیجنگ، 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) سرحدی تنازعہ کی جلد از جلد یکسوئی کا عہد کرتے ہوئے ہندوستان اور چین نے فیصلہ کیا کہ پیچیدہ تنازعات کے ’سیاسی ‘ تصفیہ پر زور دیا جائے گا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا تھا کہ اُن کی حکومت باہمی تعلقات میں انقلابی تبدیلی پیدا کرے گی اور کوئی تازہ دخل اندازیاں نہیں کی جائیں گی ۔ مودی نے میزبان وزیر اعظم لی کیقیانگ سے بات چیت کے دوران حقیقی خط ِقبضہ کے واضح تعین پر زور دیا اور کہا کہ سرحدی مسئلہ پر ہمارے موقف سے بغض و عناد رکھے بغیر ایسا کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ غیر یقینی کیفیت کے سائے ہمیشہ سرحدی علاقہ کے حساس مقامات پر پڑتے رہے ہیں کیونکہ دونوں ملکوں میں سے کوئی بھی نہیں جانتا کہ حقیقی خط قبضہ ان علاقوں میں کہاں پر واقع ہے۔ وزیر اعظم ہند نے ای ویزا سہولت کا چینی سیاحوں کیلئے اعلان کرتے ہوئے حکومت چین سے خواہش کی کہ وہ چند مسائل پر جن کی وجہ سے دونوں ممالک پچھڑے ہوئے ہیں از سر نو غور کیا جائے ۔ وہ واضح طور پر ارونا چل پردیش کے شہریوں کو منسلکہ ویزا جاری کرنے کا حوالہ دے رہے تھے۔ ارونا چل پردیش کو چین اپنا علاقہ قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک نے فیصلہ کیا کہ سرحد کے اجلاس کے مقامات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا ۔ فوجی ارکان عملہ موجودہ چار مقامات پر تعینات کئے جائیں گے ۔ دریں اثناء امن اور خیر سگالی کا ماحول سرحد پر برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ باہمی تعلقات میں مسلسل ترقی کی اہم ضمانت یہی ماحول ہوسکتا ہے۔

مودی اور کیقیانگ نے وسیع تر موضوعات بشمول سرحدی تنازعہ ‘تجارتی عدم توازن ‘دہشت گردی ‘سرمایہ کاری ‘تبدیلی آب و ہوا اور اقوام متحدہ میں اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ مذاکرات 90 منٹ جاری رہے۔ وزیر اعظم مودی نے یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ ہندوستان اور چین کے تعلقات گزشتہ چند دہائیوں سے پیچیدہ ہوگئے ہیں، کہا کہ دونوں ملکوں کی تاریخی ذمہ داری ہے کہ اپنے تعلقات کوطاقت کا وسیلہ ایک دوسرے کیلئے بنادے اور دنیا کیلئے اچھی طاقت فراہم کریں ۔ انہوں نے مشترک ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوںکے مفادات انتہائی حساس ہیں اور مسائل کے اختراعی حل تلاش کئے جانے چاہئیں،جن کی وجہ سے سے باہمی تعلقات میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے ۔