نئی دہلی ۔7اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کی ایس۔400 سودے کی روس کے ساتھ معاہدہ پر تحدیدات عائد کرنے کے خوف کے دوران سربراہ فوج جنرل بپن راوت نے کہا کہ ہندوستان آزادانہ پالیسی پر عمل کرتا ہے اور کاموف ہیلی کاپٹرس اور اسلحہ کے دیگر نظاموں کی روس سے خریداری کے بارے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ ہندوستان اور روس نے جمعہ کے دن کئی ارب ڈالر مالیتی سودے پر دستخط کئے ہیں جس کے تحت S-400 ٹرائمف فضائی ‘ دفاعی نظام روس سے خریدنے کا معاہدہ کیا ہے ۔ اندیشہ ہے کہ امریکہ اس پر تحدیدات عائد کرے گا ۔ قانون تحدیدات دراصل روس ‘ ایران اور شمالی کوریا کے خلاف ہے ۔ ہندوستان اور روس نے سودے کو حال ہی میں قطعیت دیتے ہوئیہ امریکہ کے انتباہ کو نظرانداز کردیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں ہندوستان اس کی توجہ کا مرکز بن سکتاہے اور وہ تعزیری تحدیدات روسیوں کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر عائد کرسکتا ہے ۔جنرل راوت ہفتہ کی رات 6روزہ دورہ روس سے واپس آئے ہیں ۔ جس کے دوران انہوں نے فوجی عہدیداروں سے ہند ۔ روس باہمی تعاون میں اضافہ کیلئے بات چیت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ روسیوں کو ہندوستانی فوج اور دفاعی طاقت سے گہری دلچسپی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیںکہ ہماری فوج کافی طاقتور ہے اور ہمارے لئے جو کچھ درست ہے اس کی تائید میں پوری طاقت کے ساتھ کھڑی ہوسکتی ہے ۔ اس کی حکمت عملی کا عمل کسی بھی دباؤ سے آزاد ہے ۔ جنرل راوت ‘ جنرل کے وی کرشنا راؤ میموریل لکچر دے رہے تھے ‘ اپنے دورہ روس کے موقع پر جنرل راوت نے ان سے کئے ہوئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ایک روسی بحری عہدیدار سے کہا تھا کہ ہندوستان مغرب کی جانب امریکہ کو نہیں دیکھتا بلکہ روس پر امریکی تحدیدات کی اس نے مخالفت کی ہے ۔ امریکہ نے دھمکی دی تھی کہ وہ روس کے ساتھ تجارت کی صورت میں تحدیدات عائد کرے گا لیکن ہندوستان نے اس کی پرواہ نہیں کی ۔