مقتول کے بیٹے کی درخواست ِ رحم بھی مسترد
ہوسٹن۔ 18 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایک 34 سالہ شخص کو 2004ء میں ایک ہندوستانی نژاد تاجر کو قتل کرنے کی پاداش میں سزائے موت دی گئی حالانکہ ملزم کو معاف کردیئے جانے کی اپیل مقتول کے بیٹے نے بھی کی تھی لیکن اس کے باوجود سزائے موت پر عمل آوری کی گئی۔ کرسٹو فرینگ جو ایک بدنام زمانہ گیانگ کا رکن تھا، نے 14 سال قبل ہنس مکھ پٹیل نامی ہندوستانی شخص کے منی مارٹ اینڈ ڈرائی کلینر اسٹور میں سرقہ کی واردات انجام دیئے وقت ہنس مکھ کو گولی مار دی تھی۔ 50 سالہ ہنس جانبر نہ ہوسکا تھا جبکہ ملزم ینگ کی عمر اس وقت صرف 21 سال تھی۔ فروری 2006ء میں ایک مقامی عدالت نے ینگ کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ کل اس کی سزائے موت پر عمل آوری کی گئی۔ ینگ کی خالہ اور دیگر وکلاء نے اس کی سزائے موت معاف کردینے کی مہم بھی چلائی تھی۔ یہاں تک کہ مقتول ہنس مکھ کے 36 سالہ بیٹے متیش نے بھی اپنے باپ کے قاتل کو معاف کردینے کی اپیل کی تھی لیکن ان اپیلوں کو مسترد کردیا گیا۔