ہندوتوا طاقتوں کی زہر افشانی، ذہنی دہشت گردی ، ایم اے خان کا بیان

حیدرآباد /16 دسمبر (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ایم اے خان نے ملک بھر میں بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کے بشمول ہندوتوا طاقتوں کی زہر افشانی کو ’’ذہنی دہشت گردی‘‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ سادھوی کے ریمارک کے بعد وزیر اعظم نے راجیہ سبھا میں افسوس ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں سے احتجاج ختم کرنے کی خواہش کی تھی، جس پر تمام جماعتوں نے ملک کے عوامی اور ترقیاتی مسائل پر توجہ دینے کے لئے احتجاج ختم کردیا تھا، تاہم اس کے بعد ہر دن بی جے پی ارکان پارلیمنٹ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے والے بیانات دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس، وشوا ہندو پریشد، بجرنگ دل اور دیگر تنظیموں کے تبدیلی مذہب پروگرام کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور اس پروگرام کو ’’گھرواپسی‘‘ کا نام دے کر مسلمانوں اور عیسائیوں کی دل آزاری کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت ملک کو ہندو راشٹرا میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں دستور ہند کی تبدیلی کا خفیہ ایجنڈہ رکھنے والی بی جے پی تبدیلی مذہب کے سلسلے میں پارلیمنٹ میں قانون سازی کا اعلان کرکے راست طورپر دستور ہند کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کی زہر افشانی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں، جب کہ بی جے پی صدر امیت شاہ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ مسٹر خان نے کہا کہ 25 دسمبر کو اسکولس کھلے رکھنے کے سرکاری اعلان کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سیکولر اقدار کو پیش نظر رکھ کر مرکزی حکومت کو کام کرنا چاہئے، ورنہ ملک کے عوام بی جے پی اور این ڈی اے کی حلیف جماعتوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔