ماسکو ، 8 مئی ( سیاست ڈاٹ کام ) روس اور ہندوستان کے پڑوس سے اُبھرنے والی دہشت گردی دونوں ملکوں کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہے اور اس لعنت کا مقابلہ کرنے کیلئے بین الاقوامی برادری کا عزم صمیم ضروری ہے، صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے یہ بات کہی ۔ روسی سفارتی اکیڈیمی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری دیئے جانے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے پرنب مکرجی نے کہا کہ روس ، ہندوستان کی تاریخ میں مشکل لمحات میں طاقت کا
ذریعہ رہا ہے اور یہ ہنوز ہندوستان کا انتہائی اہم دفاعی شریک رہے گا۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ روس اور ہندوستان کے مشترک پڑوس سے جو دہشت گردی اور تخریب کاری ابھر رہی ہے وہ دونوں ہی ملکوں کیلئے سنگین خطرہ ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے دونوں ملکوں کا ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کا بھی عزم مصمم ہونا چاہئے۔ پرنب مکرجی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کیلئے اور ہمہ جہتی اکسپورٹ کنٹرول کے معاہدوں کی رکنیت کیلئے روس کی تائید کی ستائش کی ۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سماج اور سیاسی حلقوں میں یہ متفقہ رائے ہے کہ روس کے ساتھ دوستی ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ 11 ڈسمبر 2014ء کو ہند ۔ روس سالانہ چوٹی کانفرنس میں دونوں ملکوں کے مابین آئندہ وقتوں میں باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور مستحکم کرنے کے تعلق سے اتفاق رائے ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان دفاع ‘ نیوکلیر توانائی اور سکیوریٹی میں روس کے ساتھ قریبی اور سرگرم تعاون کی قدر کرتا ہے ۔ روس ہندوستان کا اہم دفاعی شریک ہے اور رہے گا۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹین کے دورۂ ہند کے موقع پر دونوں ملکوں نے اتفاق کیا تھا کہ وہ باہمی تجارت و معاشی تعاون کو اعلیٰ ترین سطح تک لے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ ‘ فارماسیوٹیکلس ‘ کمیکلز ‘ فرٹیلائزرس ‘ کوئلہ ‘ ڈائمنڈز ‘ سیول ایرکرافٹ ‘ آٹو موبائیل اور آئی ٹی جیسے شعبہ جات میں باہمی تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔