نئی دہلی۔ 20 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی وزیر نتن گڈکری نے آج کہا کہ مودی حکومت پر آر ایس ایس کا کوئی دباؤ ہے اور نہ ہی وہ کوئی ہدایت دیتی ہے ۔ کابینہ میں وزراء کو اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کی مکمل آزادی ہے۔ انہوں نے آرایس ایس سربراہ موہن بھگوت سے بعض سینئر وزراء کی حالیہ ملاقات کی اہمیت کو گھٹاتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا تنظیم کو قومی سلامتی اور تعلیم کے معاملت میں دلچسپی ہے، سابق بی جے پی صدر جو کہ آر ایس ایس کے بالکل قریب ہے، کہا کہ آر ایس ایس قائدین کے ساتھ ملاقات کے دوران بہت ہی کم سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے چونکہ یہ ملاقاتیں ایک کے بعد ایک ہوتی ہیںاور موہن بھگوت ملاقات کے خواہشمندوں سے ہی ملاقات کرتے ہیں اور وہ صرف آر ایس ایس ہیڈ کوارٹر ناگپور میں قیام پذیر رہتے ہیں۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے منوہر پاریکر ، راجناتھ سنگھ اور وہ خود (گڈکری) آر ایسا یس کے رکن ہیں۔ موہن بھگوت سے ملاقات کر کے مختلف مسائل پر بات چیت کرتے ہیں لیکن ان ملاقاتوں کے بارے میں میڈیا جوکچھ بھی پیش کرتا ہے ایک فیصد بھی سچائی نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک سنگھ کارکن ہوں اور ایسا کہنے میں خوفزدہ نہیں ہوں اور سنگھ میری زندگی کے اصولوں کا حصہ ہے۔ پاریکر اور راجناتھ سنگھ بھی تنظیم کے کارکن ہیں لیکن سنگھ نے ہم پر کبھی دباؤ ڈالا ہے اور نہ ہی کوئی ہدایت دی ہے اور ملاقات میں بہت ہی کم سیاسی امور پر بات چیت کی جاتی ہے ۔ انہوں نے ان اطلاعات کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ بعض بی جے پی لیڈروں نے وزیراعظم نریندر مودی کی کارکردگی کے خلاف آر ایس ایس سے شکایت کی ہے۔