ہماچل پردیش میں حیدرآباد کے 24 انجینئرنگ طلبا بہہ گئے

حیدرآباد ۔ /8 جون (سیاست نیوز) ہماچل پردیش منالی میں پیش آئے ایک دلخراش واقعہ میں حیدرآباد کے ایک انجنیئرنگ کالج کے 24 طلباء ندی میں بہہ گئے ۔ نظام پیٹ باچوپلی میں واقع وی این آر وگیانا جیوتی انسٹی ٹیوٹ آف انجنیئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کے تقریباً 48 طلبا 3 کالج کے ذمہ داران کے ہمراہ گرمائی تعطیلات منانے شمالی ہند کے مختلف مقامات بشمول ہماچل پردیش گئے تھے ۔طلباء وگیان انجنیئرنگ کالج کے شعبہ الیکٹرانکس اینڈ انسٹرومینٹیشن انجنیئرنگ سے وابستہ تھے ۔ منالی کراٹ پور ہائی وے پر واقع بیس ندی کے کنارے پر تصویر کشی کررہے تھے کہ اچانک 126 میگا واٹ کے لارجی ہائیڈرو پاور پراجکٹ ذخیرہ آب سے پانی کے اخراج کیلئے ندی کے دروازے کھول دیئے گئے

تھے جس میں 24 طلبا پانی کی زد میں آکر بہہ گئے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ تصویر کشی میں مصروف طلبا کو اچانک تیز رفتار سے آنے والے ندی کے پانی کے بہاؤ کا اندازہ نہ تھا اور وہ اس حادثہ کا شکار ہوگئے ۔ شملہ کے ضلع انتظامیہ کے بموجب حادثہ کا شکار ہونے والے طلبا میں 18 لڑکے اور 6 لڑکیاں شامل ہیں ۔ اس حادثہ کے بعد ہماچل پردیش کی سرکاری مشنری حرکت میں آگئی اور پانی میں غرقاب ہونے والے طلباء کو باہر نکالنے کیلئے خصوصی تیراکوں کی ٹیمیں مصروف کردی گئیں ۔ لیکن سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پانی میں بہہ جانے والے طلباء باحیات ہونے کی امید نہیں ہے ۔انجنیئرنگ کالج کے لیکچرر و ٹور منیجر کرن بھی اس حادثہ میں غرقاب ہونے کی اطلاع ہے ۔ ندی کے پانی میں بہہ جانے والے طلباء کی شناخت سری ندھی ، ردیما ، ایشوریا ، وششٹا ، گائتری ، وجیتا ، رتویک ، رام بابو ، اوپیندر ، شیوا ، وشنو ، سندیپ ، بوس ، اکھیل ، پرمیش ، آشیش ، اروند کی حیثیت سے کرلی گئی ۔ حادثہ کے فوری بعد ہائیڈل پاور کے عہدیداروں کی لاپرواہی کے خلاف قومی شاہراہ پر ٹریفک میں خلل پیدا کرتے ہوئے راستہ روکو احتجاج کیا گیا ۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ جو طلباء ندی کے کنارے تصویر کشی کیلئے نہیں گئے تھے ان پر اپنے ساتھی طلباء کی اچانک موت واقع ہونے پر سکتہ طاری ہوگیا اور انہیں قریب کی ایک مندر میں منتقل کیا گیا ۔ رات دیر گئے تک کسی بھی طالبعلم کی نعش کو باہر نکالنے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔ ہماچل پردیش حکومت نے متاثرہ طلباء کے افراد خاندان کیلئے ایک خصوصی ہیلپ لائین کھولی ہے جس کا نمبر 01902224455 ہے ۔ حادثہ کی اطلاع تمام قومی و مقامی چیانلس پر مسلسل دکھائی جانے کے باعث طلباء کے والدین تشویش کا شکار ہوگئے اور اپنے لڑکے لڑکیوں کو باحیات ہونے کی تصدیق کیلئے بے چین تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی مسٹر کے تارک راما راؤ نے بتایا کہ حکومت غرقاب طلباء کے والدین کیلئے ہوائی جہاز کے ٹکٹس فراہم کر رہی ہے اور ہماچل پردیش سے نعشوں کو حیدرآباد منتقل کرنے کیلئے خصوصی طیارہ کا بھی انتظام کیا جارہا ہے ۔ کمشنر پولیس سائبر آباد مسٹر سی وی آنند نے بتایا کہ وی این آر وگیان جیوتی انجنیئرنگ کالج پیٹ بشیر آباد علاقہ میں موجود واقع ہے اور غرقاب طلباء کی نعشوں کو حیدرآباد منتقلی کیلئے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس پیٹ بشیرآباد مسٹر این سرینواس راؤ کو بھی ہماچل پردیش روانہ کیا جاچکا ہے ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے انجنیئرنگ طلباء ہماچل پردیش میں حادثہ کا شکار ہونے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور بتایا کہ حکومت متاثرہ افراد خاندان کو ہرممکن مدد کرے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ ہماچل پردیش کی حکومت سے رابطہ قائم کیا گیا ہے اور پانی میں بہہ جانے والے طلباء کی تلاش میں شدت پیدا کرنے اور انہیں فی الفور ڈھونڈنے کیلئے موثر اقدامات کی گزارش کی ہے ۔