ہماچل سانحہ کے مزید دو طلبا کی نعشیں برآمد کرلی گئیں

مابقی کی تلاش کیلئے کوششیں تیز : ہندوستانی بحریہ کے غوطہ خوروں کی آمد

منڈی 12 جون ( پی ٹی آئی ) حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے مزید دو انجینئرنگ طلبا کی نعشوں کو آج دریائے بئیس سے نکالا گیا اور تلاشی مہم میں مزید شدت پیدا کردی گئی ہے جبکہ ہنوز 17 نعشیں ملنی باقی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ ہندوستانی بحریہ کے غوطہ خوروں کو تلاشی مہم میں شامل کیا جا رہا ہے ۔ آج جو دو نعشیں دستیاب ہوئی ہیں ان کی ٹی اوپیندر اور جی اروند کمار کی حیثیت سے ان کے والدین نے شناخت کی ہے ۔ منڈی کے سپرنٹنڈنٹ پولیس آر ایس نیگی نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ نعشیں چٹانوں میں پھنسی ہوئی تھیں اور بچاؤ ٹیموں کو انہیں نکالنے میں سخت مشکل پیش آئی ۔ اب تک گذشتہ چار دن میں آٹھ نعشیں نکالی جاسکی ہیں اور مزید 16 طلبا اور ایک ٹور آپریٹر کا پتہ نہیں چل سکا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اب تک پانچ لڑکوں اور تین لڑکیوں کی نعشیں نکالی گئی ہیں اور مزید 13 لڑکوں اور 3 لڑکیوں کی نعشیں نکالی جانی باقی ہیں۔ اس دوران ہندوستانی بحریہ کے 15 غوطہ خوروں کی ایک ٹیم بھی تلاشی مہم میں شامل ہوگئی ہے اور ایک بے پائلٹ فضائی گاڑی بھی استعمال کی جا رہی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ پہاڑی بلندیوں پر برف پگھلنے سے ندی میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگیا ہے اور زائد از 550 بچاؤ کارکن پہلے ہی تلاشی مہم میں مصروف ہیں ۔اس کام کی نگرانی قومی ڈیزاسٹر ریسپانس فورس کر رہی ہے ۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھاریٹی کے نائب صدر نشین ایم ششی دھر ریڈی نے کہا کہ آج دریا سے مزید دو نعشیں دستیاب ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غوطہ خوروں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ ندی میں چٹانیں وغیرہ بھی ہیں۔ علاوہ ازیں پانی صاف نہیں ہے اور زیر آب استعمال ہونے والا کیمرہ کارکرد ثابت نہیں ہو رہا ہے ۔