ہزاروں مخالف حکومت احتجاجیوں کا اسلام آباد مارچ

اسلام آباد ؍ لاہور ۔ 14 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان میں آج یوم آزادی کے موقع پر ہزاروں مخالف حکومت احتجاجیوں نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ شروع کیا جبکہ تشدد کے اندیشوں کے پیش نظر دارالحکومت کو فصیل بند قلعہ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ عدالت نے لمحہ آخر میں پرامن مظاہرہ کی اجازت دی جس سے ان کے حوصلے اور بلند ہوگئے۔ ایسے وقت جبکہ ملک یوم آزادی تقاریب منارہا تھا دو گروپس جن میں ایک کی قیادت کرکٹر سے سیاستداں بننے والے عمران خان اور دوسرے کی قیادت علامہ طاہرالقادری کررہے تھے، اسلام آباد تک مارچ منظم کیا۔ وہ وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہوکر دوبارہ انتخابات منعقد کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان نے زماں پارک، لاہور سے آزادی مارچ شروع کیا جبکہ علامہ طاہرالقادری نے شہر کے ماڈل ٹاؤن علاقہ سے انقلاب مارچ کا آغاز کیا۔ یہ دونوں گروپ اگرچہ ایک دوسرے کے حلیف نہیں ہیں لیکن دونوں کا مطالبہ یہی ہیکہ حکومت کو برطرف ہونا چاہئے اور دونوں نے اسے بدعنوان حکومت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ عمران خان نے کئی افراد بشمول خواتین اور بچوں کے ساتھ پہلے مارچ کا آغاز کیا جبکہ حکام نے عدالت کی جانب سے پرامن احتجاج کی اجازت دیئے جانے کے بعد سڑکوں سے رکاوٹیں دور کردی تھیں۔ عمران خان نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان (عمران خان) کیلئے نہیں بلکہ آپ کے بچوں کی خاطر اور اگر آپ پاکستان کی حقیقی آزادی چاہتے ہوں تو اس کی خاطر مارچ میں ضرور حصہ لیں۔

وہ گذشتہ سال عام انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلیوں کے خلاف یہ احتجاج کررہے ہیں۔ حکومت نے کسی قدر پس و پیش کے بعد علامہ طاہرالقادری کے حامیوں کو بھی ماڈل ٹاؤن علاقہ سے لاہور تک مارچ کی اجازت دے دی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ ایک غیرمعمولی پیشرفت تھی کیونکہ حکومت نے پہلے علامہ طاہرالقادری کی زیرقیادت احتجاج کی اجازت سے انکار کردیا تھا۔ علامہ طاہرالقادری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انقلاب مارچ ماڈل ٹاؤن سے شروع ہورہا ہے اور وہ ملک کو یوم آزادی کی مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔ یہ انقلابی مارچ اس ملک کے دبے کچلے عوام کو دستوری اور جمہوری حقوق فراہم کرے گا۔ انہوں نے انقلابی مارچ کے مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد جمہوریت کی بحالی اور غربت کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے انقلابی اصلاحات متعارف کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ ان کے انقلاب مارچ کا بنیادی مقصد ہے۔