ہر گھر کیلئے پولیس ملازم کی تعیناتی ناممکن

ممبئی 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) بدایوں اجتماعی عصمت ریزی واقعہ پر ملک گیر سطح پر جاری برہمی کے دوران مہاراشٹرا کے وزیرداخلہ آر آر پاٹل نے آج یہ ریمارک کرتے ہوئے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس طرح کے جرائم کو روکنے کے لئے جہاں کہیں ایسے واقعات پیش آرہے ہیں وہاں ہر گھر پر پولیس ملازم کو متعین کرنا ممکن نہیں۔ قانون ساز کونسل میں خواتین اور دلتوں کے خلاف جرائم پر مباحث کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ خواتین کے خلاف کئی جرائم گھر کے اندر ہوتے ہیں،

کیا یہ ممکن ہے کہ ہر گھر میں ایک پولیس ملازم متعین کیا جائے؟ اُنھوں نے کہاکہ 40 فیصد عصمت ریزی کے واقعات میں ایسے افراد ملوث ہوتے ہیں جن سے متاثرہ خاتون کی شناسائی ہوتی ہے۔ 6.34 فیصد عصمت ریزی کے واقعات میں بھائی اور باپ ملوث ہوتے ہیں۔ 6.65 فیصد واقعات میں قریبی رشتہ دار اور 40 فیصد ایسے واقعات پیش آتے ہیں جن میں شادی کا وعدہ کرکے عصمت ریزی کی جاتی ہے۔ آر آر پاٹل نے کہاکہ عصمت ریزی جیسے جرائم میں اضافہ کی ایک وجہ اخلاقی اقدار کا فقدان بھی ہے۔ اپوزیشن نے اُن کے تبصرے پر شدید ردعمل ظاہر کیا جس پر آر آر پاٹل نے کہاکہ اُن کے بیان کا غلط مطلب نکالا جارہا ہے۔ اُنھوں نے متعلقہ میڈیا کے خلاف تحریک مراعات شکنی نوٹس پیش کرنے کی بھی دھمکی دی۔