سدی پیٹ کے گائوں گائوں میں متفقہ قراردادیں
حیدرآباد۔8 اکٹوبر (سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی سدی پیٹ کے رائے دہندوں نے اسمبلی انتخابات میں ہریش رائو کو 1,11,111 ووٹوں کی اکثریت سے کامیاب بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اسی مقصد کے تحت سدی پیٹ کے تمام مواضعات میں رائے دہندے متفقہ قراردادوں کی منظوری کا سلسلہ جار رکھے ہوئے ہیں۔ عوامی خدمات فلاحی اور ترقیاتی اقدامات کے سبب ہریش رائو کی بے پناہ مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مختلف تنظیموں بشمول خواتین کی تنظیموں اور بچوں کی جانب سے اپنے روزمرہ خرچ کی رقم ہریش رائو کو انتخابی خرچ کے لیے حوالے کی گئی۔ ہریش رائو کی انتخابی مہم میں عدم شمولیت کے باوجود رائے دہندے ان کی مہم چلارہے ہیں۔ روزانہ کسی نہ کسی پنچایت اور منڈل کے تحت قراردادوں کی منظوری کا سلسلہ جاری ہے۔ 2014 عام انتخابات میں ہریش رائو نے 93328 ووٹوںکی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی اور انہیں جملہ 1,08,699 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ گزشتہ ساڑے چار برسوں میں سدی پیٹ کی ترقی کے لیے ہریش رائو نے جو اقدامات کیے اس کے سبب حلقہ کی صورت تبدیل ہوچکی ہے۔ عوام نے اس مرتبہ انہیں ایک لاکھ گیارہ ہزار ایک سو گیارہ ووٹ کی اکثریت سے کامیاب بنانے کا عہد کیا ہے۔ اس سلسلہ میں منظورہ قراردادوں کو ہریش رائو کے حوالے کیا گیا۔ وزیر آبپاشی نے کہا کہ وہ عوام کی اس محبت کو اپنے لیے قرض تصور کرتے ہیں اور بہتر خدمت کے ذریعہ اسے چکانے کی کوشش کریں گے۔ گزشتہ انتخابات میں بھی تلنگانہ کے تمام 119 ارکان اسمبلی میں ہریش رائو کی اکثریت سب سے زیادہ تھی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کو گجویل سے 19391 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی ملی تھی۔ سدی پیٹ کے عوام دوبارہ ریکارڈ اکثریت سے کامیابی دلاکر ہریش رائو کی خدمات کا اعتراف کرنا چاہتے ہیں۔ قراردادوں میں کہا گیا کہ جس طرح سے ضلع کی ترقی کے لیے ہریش رائو نے قدم اٹھائے ہیں انہیں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔