آندھرا پردیش اسمبلی اجلاس میں قائد اپوزیشن جگن موہن ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔/19ڈسمبر، ( سیاست نیوز) حکومت آندھرا پردیش ہد ہد طوفان متاثرین کو امداد کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے۔ صدر وائی ایس آر کانگریس و قائد اپوزیشن آندھرا پردیش اسمبلی نے آج ایوان میں شروع ہوئے طوفان پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ بات کہی۔ آج صبح ایوان کی کارروائی کے دوران اسپیکر نے ہد ہد طوفان پر مباحث کا اعلان کیا جس پر وائی ایس آر کانگریس قائد مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی عدم موجودگی میں طوفان ہد ہد پر مباحث کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ انہوں نے کرسی صدارت سے خواہش کی کہ وہ اس مسئلہ پر مباحث کو اگلے دن کیلئے ملتوی کردیں لیکن ریاستی وزیر مسٹر جی سرینواس راؤ نے اس مسئلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش وشاکھاپٹنم میں منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کیلئے گئے ہوئے ہیں اور کسی بھی وقت ان کی واپسی ممکن ہے اسی لئے مباحث کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیئے۔ انہوں نے اپوزیشن قائدین سے خواہش کی کہ وہ مسئلہ کو طول نہ دیں اور چیف منسٹر کی عدم موجودگی کو پیچیدہ مسئلہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ریاستی وزیر کے اس اظہار خیال پر برہم وائی ایس آر کانگریس ارکان نے مباحث کو اگلے دن کیلئے ملتوی کرنے کا مطالبہ شروع کردیا لیکن ڈپٹی اسپیکر اسمبلی نے مباحث کے آغاز کی ہدایت دی۔جس پر ٹی ڈی پی رکن اسمبلی مسٹر کے روی کمار نے مباحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ چندرا بابو نائیڈو حکومت ہد ہد طوفان کے متاثرین کو بہتر سے بہتر امداد کی فراہمی کے علاوہ بروقت امداد کی فراہمی میں بڑی حد تک کامیاب ہوئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے آفات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس ہدہد طوفان سے ہونے والی تباہ کاریوں سے نمٹنے کیلئے مسٹر نائیڈو نے جو منصوبہ تیار کیا ہے اس سے ان کی صلاحیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مسٹر جگن موہن ریڈی نے ہد ہد طوفان پر جاری مباحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طوفان متاثرین کے ہمراہ تلگودیشم کارکنوں کے رویہ سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ تلگودیشم کارکن متاثرین کو امداد نہیں پہنچارہے ہیں بلکہ انہیں ہراساں کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ مسٹر جگن موہن ریڈی نے بتایا کہ ایسے واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ تلگودیشم کارکن امداد پہنچانے کے نام پر متاثرین پر کھانے کے پیاکٹس پھینک رہے تھے۔ انہوں نے اس رویہ کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ آیا متاثرہ عوام سے اختیار کردہ رویہ درست تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہد ہد متاثرین کو جس انداز سے امداد پہنچائی گئی ہے اس سے انسانیت شرمسار ہوتی نظر آرہی تھی۔ چونکہ تلگودیشم کارکن حقارت کے ساتھ انہیں کھانے کے پیاکٹس فراہم کررہے تھے۔ ہد ہد طوفان پر مباحث کے دوران اچانک ہنگامہ آرائی کا اسوقت آغاز ہوا جب ریاستی وزیر نے صدر وائی ایس آر کانگریس مسٹر وائی ایس جگن موہن ریڈی کے خلاف شخصی ریمارکس کرتے ہوئے عدالت میں زیر دوراں مقدمات کا حوالہ دیا۔