مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کا بیان ، وقفۂ صفر کے دوران لوک سبھا میں تقریر
نئی دہلی 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت نے ہجومی تشدد کے حالیہ واقعات کی آج مذمت کی اور کہاکہ ریاستی حکومتوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور سماجی ذرائع ابلاغ خدمات سے خواہش کی گئی کہ وہ افواہیں اور فرضی خبریں پھیلانے پر قابو پائیں۔ مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے ہجومی تشدد کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے وقفۂ صفر کے دوران لوک سبھا میں بیان دیا۔ اُن کا بیان کانگریس قائد کے سی وینو گوپال کے بیان کا ردعمل تھا جنھوں نے زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتوں کا مسئلہ اُٹھایا تھا۔ گزشتہ ہفتہ سوامی اگنی ویش پر جھارکھنڈ میں حملہ کیا گیا اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے اِس کی مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔ مرکزی وزیر سنگھ نے کہاکہ کئی افراد کو زدوکوب کرکے ہلاک کرنے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ حکومت کے لئے شدید تشویش کا معاملہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ زدوکوب کے ذریعہ ہلاکتیں غالباً افواہوں کی وجہ سے اور فرضی خبروں کی جانچ کئے بغیر کارروائی کرنے کا نتیجہ ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ نظم و ضبط ریاست کا دائرۂ عمل ہے۔ مرکز اِس مسئلہ پر خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتا۔ اُنھوں نے خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مشورہ دیا اور ریاستی حکومتوں سے کہاکہ اُنھیں فوری سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ یہ مسئلہ اُٹھاتے ہوئے کانگریس رکن وینو گوپال نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ جبکہ ایوان میں ہجومی تشدد اور لوگوں پر حملوں کا مسئلہ اُٹھایا جاتا ہے جن کے نظریات حکومت کے خلاف ہوتے ہیں اور ایسے افراد پر حملے اور ہجومی تشدد روز کا معمول بن گیا ہے اور حکومت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی وزیر جینت سنہا کو پھولوں کا ہار پہنایا گیا۔ میں حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ ملک کے جمہوری ماحول کا تحفظ کریں۔ اُنھوں نے سوال کیاکہ کیا ملک میں قانون کی حکمرانی ہے کیوں کہ مرکزی وزیر جینت سنہا بھی مبینہ طور پر ہجومی تشدد میں ملوث تھے۔ اِس موضوع پر بحث کے دوران ایوان پارلیمنٹ میں شوروغل کے مناظر دیکھے گئے۔ کانگریس قائدین ملکارجن کھرگے اور جیوتر آدتیہ سندھیا بھی کرسیٔ صدارت سے اِس مسئلہ پر مباحث کی اجازت دینے کا مطالبہ کررہے تھے۔ کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نے ایک شکایت درج کروائی ہے اور ہجومی تشدد کو پوری قوم کے لئے سنگین تشویش کا مسئلہ قرار دیا ہے۔