بعض طاقتیں تقسیم کو روکنے کوشاں ، کونسل میں کے سی آر کا بیان
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز): چیف منسٹر ریاست تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ آئندہ 15 یوم میں ہائی کورٹ کی تقسیم عمل میں آجائے گی ۔ آج یہاں تلنگانہ قانون ساز کونسل میں بجٹ پر ہوئے مباحث کے بعد اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی ہائی کورٹ کی تقسیم کو روکنے کے لیے بعض طاقتیں رکاوٹیں پیدا کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ایڈوکیٹس کے ایک وفد نے آج مرکزی وزیر قانون مسٹر سدانندا گوڑ سے ملاقات کی اور ریاستی ہائی کورٹ کی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے عاجلانہ اقدامات کرنے کی مرکزی وزیر قانون سے پر زور خواہش کی جس پر مرکزی وزیر قانون نے مذکورہ تیقن ( پندرہ دنوں میں ہائی کورٹ کی تقسیم کرنے ) دیا ۔ چیف منسٹر نے مزید کہا کہ تلنگانہ کے ہر ایک فرد کا یہ خیال ہے کہ ریاستی ہائی کورٹ کی تقسیم ہونا ، ریاست کی تقسیم کا عمل بھی مکمل ہونے کے برابر ہوگا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ریاستی ہائی کورٹ کی تقسیم کے مسئلہ پر بہت جلد وہ چیف جسٹس آندھرا پردیش ہائی کورٹ جسٹس کلیان جیوتی سین سے ملاقات کریں گے اور کہا کہ ہائی کورٹ کی تقسیم کے تعلق سے بہت جلد سب کے لیے خوشخبری حاصل ہوگی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ قبل ازیں بھی وہ ہائی کورٹ کی تقسیم کے سلسلہ میں مرکزی حکومت سے موثر نمائندگی کرچکے ہیں اور جو بھی ہوگا وہ ریاست تلنگانہ کے لیے بہتر ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد ریاست تلنگانہ میں ایک لاکھ ملازمتیں فراہم کرنے کے لیے اعلامیہ جاری کیا جائے گا ۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ جدوجہد میں طلباء سب سے آگے رہتے ہوئے اپنا اہم رول ادا کیا ۔ لہذا طلباء کے ساتھ مکمل انصاف کی شدید ضرورت ہے ۔ کملاناتھ کمیٹی رپورٹ مکمل ہوجانے کے ساتھ ہی تقررات عمل میں لانے کے لیے اقدامات کا آغاز کیا جائے گا ۔ بالخصوص ملازمین کی تقسیم کا عمل مکمل ہوجانے کے بعد تمام ملازمین اپنے اپنے محکمہ جات میں رجوع ہونے کے ساتھ مخلوعہ جائیدادوں کے حقیقی اعداد و شمار حاصل ہوجائیں گے اور فوری طور پر ملازمتوں کے لیے اعلامیہ جاری کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ہی محکمہ پولیس میں 3726 جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کے اقدامات کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔ اسی طرح انجینئرنگ شعبہ میں 600 جائیدادوں پر تقررات عمل میں لانے کے لیے بہت جلد اعلامیہ جاری کیا جائے گا ۔ اس موقعہ پر ہی چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ سرکاری اردو میڈیم مدارس میں تقریبا 1500 ٹیچرس کے تقررات عمل میں لانے کے لیے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ڈی ایس سی اعلامیہ کے تعلق سے اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ جائیدادوں ( ملازمتوں کی فراہمی کے لیے ) پر تقررات عمل میں لانے کے لیے ڈی ایس سی نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم پر حکومت پر خصوصی ترجیح دے گی ۔ علاوہ ازیں بچوں کی تعلیم پر نظر رکھنے کے لیے ڈی ایس سی رہے گی ۔ اور بالخصوص تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے بعد ہی ڈی ایس سی اعلامیہ جاری کئے جانے کی توقع کی جاسکتی ہے ۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر راؤ نے مزید کہا کہ ملازمت کے لیے حد عمر کو پیش نظر رکھتے ہوئے بے روزگاروں کو حد عمر میں استثنیٰ دیتے ہوئے تقررات میں مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔۔