گھٹکا پر پابندی کے مثبت نتائج: عالمی ادارہ صحت

ممبئی ۔ 17 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : عالمی تنظیم صحت WHO کی اطلاع کے بموجب ریاستی سطح پر گھٹکہ پر امتناع کے سخت گیر قوانین کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں جب کہ گھٹکا کے استعمال میں کمی کے نتیجہ میں تمباکو اشیاء کی دستیابی میں گراوٹ آگئی ہے ۔ تنظیم کی تازہ مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی 7 ریاستوں آسام ، بہار ، گجرات ، کرناٹک ، مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا اور اڑیسہ اور علاقہ قومی دارالحکومت میں 92 فیصد افراد نے گھٹکا کی فروخت پر پابندی کی حمایت کی ہے جب کہ 99 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ ہندوستانی نوجوانوں کی صحت کے حق میں یہ پابندی کارآمد ہے ۔ عالمی تنظیم صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امتناعی قوانین پر سختی سے عمل آوری کی وجہ سے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں اور گھٹکا کے استعمال میں نمایاں کمی واقع ہوگئی ہے جب کہ 49 فیصد افراد نے بتایا کہ امتناع کے بعد سے بہت ہی کم گھٹکہ کا استعمال کررہے ہیں ۔

ہندوستان میں تنظیم کے نمائندہ ڈاکٹر نٹا مینابڈے نے بتایا کہ چونکہ گھٹکا استعمال پر پابندی کا تجربہ کامیاب ثابت ہوا ۔ لہذا حکومت دوسری تمباکو اشیاء جو کہ دھویں کے بغیر ہو تیاری اور فروخت پر امتناع عائد کردے ۔ تاہم گھٹکہ پر امتناع کے بعد تمباکو کا دوسری شکل میں استعمال کیا جارہا ہے اور اب پان مسالہ میں زردہ کی آمیزش کر کے استعمال کررہے ہیں ۔ صحت عامہ سے متعلق پروگرام کے ڈائرکٹر ڈاکٹر پردیپ کرشنا نے بتایا کہ گھٹکا پر پابندی کے بعد 80 فیصد لوگوں نے اس کا استعمال ترک کردیا ہے ۔ ہندوستان میں گھٹکہ کا استعمال منہ کے سرطان کی سب سے بڑی وجہ ہے ہندوستان میں سگریٹ نوشی سے زیادہ تمباکو چبانے میں استعمال ہوتا ہے 15 سال سے کم کے عمر کے تقریبا 26 فیصد لوگ تمباکو اشیاء Smokeless Tobacco کا استعمال کرتے ہیں ۔

اور ہندوستان میں ہر سال ایک ملین افراد تمباکو استعمال سے فوت ہوتے ہیں ۔تاہم ہندوستان میں کینسر کے علاج کی عصری سہولیات اور موثر ادویات دستیاب ہونے کے باعث شرح اموات میں بھی نمایاں کمی آگئی ہے۔سگریٹ نوشی کو بالعموم نقصان رساں سمجھا جاتا ہے لیکن نہ صرف سگریٹ بلکہ تمباکو کے ہر قسم کا استعمال نقصان رساں ثابت ہوا ہے۔ بالخصوص زردہ اور گھٹکا کے استعمال سے ہندوستان میں ہر سال ہزاروں افراد متاثر ہوتے ہیں ۔