حیدرآباد۔/12ڈسمبر، ( سیاست نیوز) گورنر ای ایس ایل نرسمہن نے آج نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور تلنگانہ اور آندھرا پردیش کو درپیش مسائل سے واقف کرایا۔ انہوں نے دونوں ریاستوں کے درمیان مختلف مسائل پر تنازعہ اور اس کی یکسوئی کیلئے کوششوں سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے نرسمہن نے کہا کہ دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس ہمہ جہتی ترقی کیلئے بہتر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ریاستوں میں ایمسیٹ امتحان مشترکہ طور پر منعقد کرنے سے اتفاق کیا گیا ہے تاہم انٹر امتحانات دونوں ریاستیں علحدہ منعقد کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کی تقسیم میں تاخیر کے سبب حکومتوں کی کارکردگی کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے۔ آندھرا پردیش تنظیم جدید ایکٹ کے مطابق ملازمین اور عہدیداروں کی تقسیم عمل میں آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون پر عمل آوری کے اقدامات جاری ہیں۔ گورنر نے کہا کہ حیدرآباد 10برسوں تک مشترکہ دارالحکومت ہونے سے امن و ضبط کیلئے کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ انہوں نے تیقن دیا کہ انٹر امتحانات کے انعقاد کے سلسلہ میں اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ طلبہ کو کوئی نقصان نہ ہو۔ انہوں نے دونوں حکومتوں کی جانب سے متعلقہ ریاستوں کی ترقی کے سلسلہ میں کئے جارہے اقدامات کی ستائش کی۔ اسی دوران اطلاعات کے مطابق گورنر نے دونوں ریاستوں کے درمیان جاری تنازعات پر وزیر اعظم کو تفصیلی رپورٹ پیش کی جس میں پانی، برقی اور آبپاشی پراجکٹس کی تعمیر کے سلسلہ میں دونوں ریاستوں کے اعتراضات کا حوالہ دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گورنر نے بعض مسائل کی یکسوئی میں تلنگانہ حکومت کے عدم تعاون کی شکایت کی۔ انہوں نے مشترکہ مسائل کی یکسوئی کیلئے وزرا و عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کئے تھے۔ اس موقع پر جن اُمور پر اتفاق رائے پایا گیا بعد میں تلنگانہ حکومت نے اپنے موقف سے انحراف کرلیا۔ گورنر نے دونوں ریاستوں میں مسائل پر بہتر تال میل کیلئے دونوں چیف منسٹرس کا مشترکہ اجلاس طلب کیا تھا۔ امتحانات سے متعلق تنازعہ کی یکسوئی کیلئے انہوں نے وزرائے تعلیم کا اجلاس منعقد کیا لیکن بعد میں دونوں ریاستیں اپنے موقف پر اٹل رہیں۔ مختلف مسائل کے سلسلہ میں پیشرفت میں ناکامی کو دیکھتے ہوئے گورنر نے متنازعہ مسائل کی یکسوئی کا معاملہ وزیر اعظم نریندر مودی پر چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کل وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور دونوں ریاستوں کی صورتحال سے واقف کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ مرکزی حکومت دونوں ریاستوں کے درمیان جاری تنازعہ کی یکسوئی کیلئے وزراء اور اعلیٰ عہدیداروں پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ وقتاً فوقتاً آندھرا پردیش تنظیم جدید ایکٹ کے تحت مسائل کی یکسوئی کی جاسکے۔