نئی دہلی 12 فروری (سیاست ڈاٹ کام) جنتادل (یو) لیڈر نتیش کمار نے وزیراعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ چیف منسٹر بہار جتن رام مانجھی کو اکثریت ثابت کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت دینے کے پس پردہ نریندر مودی ذمہ دار ہیں۔ ایسا اِس لئے کیا جارہا ہے کہ سودے بازی کے ذریعہ ارکان اسمبلی کو خریدا جاسکے۔ مانجھی کو فوری طور پر اکثریت ثابت کرنے کا موقع دینے کا اُنھوں نے مطالبہ کیا تھا۔ اِس کے برعکس گورنر نے 20 فروری تک کا وقت دیا ہے۔ نتیش کمار نے کہاکہ قومی دارالحکومت سے اعلیٰ سطح پر جو ہدایات مل رہی ہیں، گورنر اُنھیں ہدایات پر عمل کررہے ہیں۔ اِس کا مقصد صرف یہی ہے کہ مرکز کی جانب سے سودے بازی کا لائسنس فراہم کیا جائے۔ اُنھوں نے حکمراں بی جے پی پر جمہوریت کا گلا گھونٹنے کا الزام عائد کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ زعفرانی جماعت نے مانجھی سے کہا ہے کہ وہ تقریباً 35 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل کرلیں، اِس کے بعد ضرورت پڑنے پر وہ (بی جے پی) تائید کے لئے تیار ہے۔ نتیش کمار نے کہاکہ سب سے پہلے گورنر نے فیصلہ کرنے میں تاخیر کی، اِس کے بعد مانجھی کو زیادہ سے زیادہ وقت فراہم کیا۔ یہ سب کچھ دہلی میں لکھی جانے والی ہدایات پر عمل آوری کا نتیجہ ہے۔ گورنر قومی دارالحکومت سے ملنے والی ہدایات پر عمل کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ سب کچھ اُس وقت شروع ہوا جب مانجھی نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔ گورنر نے پہلے جلد از جلد اکثریت ثابت کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لئے ذہن بنالیا تھا اور وہ اُس کے لئے آمادہ بھی تھے لیکن مانجھی کی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ اب قومی دارالحکومت سے ہدایات پر عمل آوری ہے۔ نتیش کمار کی جنتادل (یو) نے لوک سبھا انتخابات سے قبل نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ امیدوار کے طور پر پیش کرنے کے خلاف بی جے پی سے قطع تعلق کرلیا تھا۔ اِس کے بعد سے دونوں قائدین ایک دوسرے پر تنقیدیں کررہے ہیں۔ نتیش کمار نے کہاکہ مانجھی نے 8 فروری کو دہلی میں نریندر مودی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ حالات اب تبدیل ہورہے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم کے دفتر سے چیف منسٹر کی وزیراعظم سے ملاقات کی تصاویر ہمیشہ جاری کی جاتی ہیں لیکن مانجھی کی مودی سے ملاقات کی تصویر جاری نہیں کی گئی۔ نتیش کمار نے کل تقریباً 130 ارکان اسمبلی کی پریڈ کرائی اور صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کرکے مداخلت کی خواہش کی تھی۔ آر جے ڈی، کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بائیں بازو جماعتوں کے قائدین بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ نتیش کمار کا یہ مطالبہ ہے کہ بہار اسمبلی کا خصوصی سیشن فوری طلب کیا جائے جس میں گورنر، مانجھی کو اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دے سکتے ہیں۔ بجٹ سیشن 20 فروری سے شروع ہورہا ہے اور گورنر نے اُنھیں خطبہ کے بعد اُسی دن اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت دی۔ نتیش کمار نے کہاکہ اُس وقت عجیب و غریب صورتحال ہوگی جب گورنر ایسا خطبہ دیں گے جسے چیف منسٹر نے تیار کیا ہے اور جنھیں صرف 12 ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہے۔ مانجھی کو چیف منسٹر کے عہدہ سے مستعفی نہ ہونے پر جنتادل (یو) سے برطرف کردیا گیا ہے۔