عام آدمی کی خاص بات
گشتی دکان کے محنتی مالک بھاسکر
حیدرآباد ۔ 17 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی) : اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقے سے انسانوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی عقل اور سوجھ بوجھ سے کام لے ، اگر ہم رزق کے حصول یا روزگار کا جائزہ لیں تو اس حوالے سے اللہ تعالیٰ سے علی الصبح اٹھنے اور رزق کے لیے زمین پر پھیل جانے کا حکم دیا ہے ۔ لیکن اگر ہم اپنے حالات کا جائزہ لیں تو ہمارا عمل اس کے برعکس نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت معمولی نوکریوں پر انحصار کرتے ہیں ۔ جب کہ کاروبار یا تجارت ایک ایسا ذریعہ آمدنی ہے جس کی ہمارے اسلاف نے تاکید کی ہے ۔ وہ اس معاملے میں کبھی کاروبار کو چھوٹا یا بڑا نہیں سمجھتے تھے اور آج بھی جو لوگ ایسا نہیں سمجھتے وہ چھوٹا کاروبار کرتے کرتے بڑے بڑے کاروبار کے مالک بن جاتے ہیں ۔ شرط ہے آدمی محنت و مشقت اور استقلال کا عادی ہو ۔ 40 سالہ بھاسکر کی جن کا تعلق ورنگل سے ہے ۔ انٹر تک تعلیم حاصل کرنے والے بھاسکر فی الحال رامنتا پور میں رہتے ہیں اور پچھلے 15 سال سے عابڈس نامپلی روڈ پر کاروبار کررہے ہیں ۔ دراصل بھاسکر نے 15 سال پہلے 1989 ماڈل کے ایک ماروتی ویان 30 ہزار میں خرید کر مزید 30 ہزار کے صرفے سے اسے مکمل دوکان کی شکل دیدیا ہے ۔ پہلی نظر میں دیکھنے کے بعد اسے کوئی ماروتی ویان نہیں کہہ سکتا ۔ اسی دکان نما ویان میں ایک پان شاپ موجود ہے جہاں سگریٹ ، پان ، گٹکھا ، بک اسٹال کی طرح اخبارات ، میگزینس ، کتابیں ، جنرل آئٹمس ، روزمرہ کے سامان ، کول ڈرنکس ، پانی کے باٹلس ، اسٹامپس پیپر اور دیگر سامان اس دکان نما ویان میں موجود ہے ۔ ان کے اس دوکان پر گاہک اس قدر ہے کہ انہیں چین سے بیٹھنے یا بات کرنے کی فرصت بھی نہیں ملتی ۔ بہت مشکل سے انہوں نے بتایا کہ روزانہ 12 گھنٹے اسی موبائیل دکان میں کاروبار کرتے ہیں اور پھر شام میں اسے بند کر کے ماروتی ویان کی شکل میں گھر چلے جاتے ہیں اور پھر دوسرے دن صبح یہ پھر دوکان کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔ بھاسکر کی جتنی بھی ستائش کی جائے کم ہے کیوں کہ اس کامیاب کاروبار میں ان کی محنت کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی اختراع کا بھی عمل دخل ہے ۔ آخر ہمارے نوجوانوں کو ایسے کاروبار کرنے کا مزاج کیوں نہیں پیدا ہوتا ۔ آخر وہ کب تک دوسروں کے یہاں چھوٹی موٹی نوکری کے سہارے زندگی گذارتے رہیں گے ؟ ۔۔