جئے پور ۔25 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) گجر احتجاجیوں نے آج پانچویں دن بھی 5 فیصد کوٹہ کے مطالبہ پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد دہلی۔ممبئی ریل روٹ پر انسانی زنجیر بناکر بیٹھ گئے جبکہ حکومت راجستھان نے گجر برادری کے ارکان سے کہاتھاکہ دوسرے دور کی بات چیت جئے پور میں کریں۔ تاہم قائدین کا یہ اصرار ہے کہ یہ بات چیت احتجاج کے مرکز ومنع بیانا ٹاؤن بھرت پور میں کی جائے جو کہ پلوکا پور سے 15 کیلو میٹر دور واقع ہے اور یہاں پر احتجاجی ریلوے پٹریوں پر دھرنا دے رہے ہیں۔ گجر لیڈر کروری سنگھ بنیلا نے بتایا کہ ہم مذاکرات کیلئے جئے پور نہیں جائیں گے اور یہ بات چیت صرف بیانا میں ہوگی اور اس خصوص میں ایک مکتوب حکومت کو روانہ کردیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ یہ احتجاج گزشتہ جمعرات کو شروع کیا گیا تھا اور مطالبات کی تکمیل تک جاری رہے گا ۔ مذاکرات کی ناکامی کے نتیجہ میں بھرت پور میں دہلی۔ ممبئی ریلوے پٹریوں اور ضلع سوامی مادھا پور میں ریاستی شاہراہ پر ٹریفک منقطع ہوجانے سے مسافرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ گجر برادری کے احتجاج سے سینکڑوں ٹرینوں کو منسوخ اور روٹ تبدیل کردی گئی جبکہ کئی ایک شاہراہ کو بند کردیا گیا ۔ دوسہ میں آگرہ۔جئے پورہ ہائی وے سے احتجاجیوں کا تخلیہ کروادیا گیا لیکن ٹریفک بحال نہیں ہوسکی۔ تاہم کلکٹر روی جین نے بتایا کہ گجروں کو یہ ترغیب دی جارہی ہے کہ جئے پور آنے کیلئے حکومت کی تجویز قبول کردی جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ تفصیلی بات چیت کیلئے جئے پور صحیح مقام ہے اور وہاں جاناہی مناسب رہے گا۔ واضح رہے کہ گجر لیڈروں کے خلاف بلوہ ، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے ، دوسروں کی زندگی کیلئے خطرہ پیدا کرنے اور دیگر مجرمانہ سازشوں کے الزامات میں کیس درج کئے گئے ہیں۔ قبل ازیں ہفتہ کے دن گجر لیڈر بینیلا اور وزیر صحت راجندے راتھوڑ، وزیر سماجی انصاف ارو چترویدی ، وزیر اغذیہ بہیم سنگھ بھڈانہ کے درمیان پہلے دور کی بات چیت ناکام ہوگئی تھی۔ گجر برادری کا یہ مطالبہ ہیکہ سرکاری ملازمتوں میں 50 فیصد قانونی دائرہ کار میں 5 فیصد تحفظات دیئے جائیں۔