گجرات کے سرکردہ جہد کار مکل سنہا کا انتقال

احمدآباد 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) گجرات فسادات اور فرضی انکاؤنٹرس کے متاثرین کی مدد کیلئے مہم کی قیادت کرنے والے سرکردہ جہدکار اور قانون داں مکل سنہا کا گزشتہ روز پیر کو احمدآباد میں انتقال ہوگیا۔ وہ 63 سال کے تھے۔ آنجہانی سنہا نے بالخصوص 2002 ء کے گجرات فسادات اور بشمول عشرت جہاں کیس فرضی انکاؤنٹرس کے مختلف کیسیس میں متاثرین کی بے پناہ مدد کی تھی اور اس ضمن میں چلائی جانے والی مہم کی قیادت بھی کررہے تھے۔ شہری حقوق کے جہدکاروں نے مکل سنہا کے انتقال کو اس تحریک کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔ پیپلز یونین آف سیول لبرٹیز (پی یو سی ایل) کی جنرل سکریٹری کویتا سریواستو نے آنجہانی جہدکار کو پُراثر خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہاکہ مکل سنہا نے فسطائیت اور نریندر مودی کے خلاف اپنی آخری سانس تک جدوجہد کی ہے۔ ان جیسی ہمت و جرأت شاذ و نادر ہی دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کی موت مظلومین کی مدد اور دلجوئی کیلئے چلائی جانے والی تحریک کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

خواتین کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیم کی رہنما اندرا جئے سنگھ نے کہاکہ مکل سنہا نے اپنی ساری زندگی قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور آزادی کے فروغ کے لئے وقف کردی تھی۔ انسانی حقوق کے جہدکار اور مصنف منوج مٹا نے اپنی کتاب ’’حقائق کی تلاش کی کہانی : مودی اور گودھرا‘‘ میں گجرات فسادات کے بارے میں مکل سنہا کی طرف سے فراہم کردہ اطلاعات و معلومات کو شامل کیا ہے۔ بنرجی کمیٹی کے اجلاس پر مکل سنہا نے حاضر ہوتے ہوئے اپنی تنظیم جن سھگرش منچ کی نمائندگی کی تھی اور گجرات کے المناک فسادات کے بارے میں کئی اہم ثبوت اور تفصیلات پیش کئے تھے۔ منوج مٹا نے اپنی کتاب میں لکھا کہ گجرات فسادات کے ضمن میں موبائیل فون پر کی گئی بات چیت کا ثبوت سرکاری طور پر منظر عام پر لایا گیا جس کی بنیاد پر انسانی حقوق کے جہدکاروں، وکلاء اور دوسروں کو فسادات میں ملوث بااثر شخصیات جیسے گجرات کی سابق وزیر مایا کوڈانی، وشوا ہندو پریشد کے سابق لیڈر جئے دیپ پٹیل اور کئی سینئر پولیس افسران کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔ مکل سنہا کے پسماندگان میں شریک حیات نرجھاری اور فرزند پراتیک شامل ہیں۔