ملک میں فرقہ وارانہ فسادات میں ہزاروں اموات کیلئے کانگریس ذمہ دار ، ایم وینکیا نائیڈو کا بیان
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : گجرات میں 2002 کے فسادات پر راہول گاندھی کے ریمارکس پر انہیں اپنی شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی کے سینئیر قائد ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ کانگریس پارٹی کے نائب صدر کو 2014 کے بارے میں اور حکمرانی کے امور پر بات کرنی چاہئے ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا ’ راہول گاندھی 2002 کے بارے میں بات کرتے ہیں ۔ 2014 کے بارے میں کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں آپ پیچھے دیکھیں ۔ صرف 2002 ہی کیوں ؟ آئیے 1947 سے پیچھے دیکھیں۔ کانگریس جس نے 1947 سے ملک میں حکمران کی ، اسی کے سبب مذاہب ، ذات ، لسانی گروپس اور علاقوں میں اختلافات اور دشمنی کے حالات پیدا ہوئے فرقہ وارانہ جھڑپوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے جس کے لیے کانگریس ذمہ دار ہے ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ 1984 میں سکھوں کے قتل عام کے لیے کانگریس ذمہ دار ہے ۔ گجرات میں کتنے پرتشدد واقعات ہوئے ۔ لیکن وہ کہتے ہیں ہم صرف 2002 پر بات کریں گے ۔ یہ کہتے ہوئے کہ بی جے پی میں کوئی بات چھپانے والی نہیں ہے اور پارٹی بہتر حکمرانی ، قابل قیادت ، ترقی اور مستحکم حکومت پر مباحثہ کی حمایت کرتی ہے ۔ پارٹی کے سابق صدر نے الزام عائد کیا کہ کانگریس صرف عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہی ہے کیوں کہ یہ اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی خواتین کو تحفظات فراہم کرنے کے بارے میں کیوں خاموش ہیں ۔ راہول گاندھی کالے دھن کو واپس لانے کے بارے میں کیوں خاموش ہیں ؟ قیمتوں پر قابو پانے کے معاملہ میں راہول گاندھی کیوں خاموش ہیں ۔ دیگر وعدوں کو پورا کرنے کے بارے میں وہ کیوں خاموش ہیں ۔ ہزاروں کسانوں کی اموات پر وہ کیوں خاموش ہیں ۔ سوالات سینکڑوں ہوسکتے ہیں اور کانگریس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے مقررہ ایس آئی ٹی نے مابعد گودھرا فسادات میں بی جے پی کے وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی کو کلین چٹ دی ۔ مسٹر نائیڈو نے اروند کجریوال کے زیر قیادت پارٹی کو کانگریس کی بی ٹیم قرار دیا ۔