گجرات فسادات پر حقائق بیان کرنے پر انتقامی کارروائی

احمد آباد۔/21نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) آئی پی ایس عہدیدار مسٹرراہول شرما جنہوں نے سال2002 کے گودھرا فسادات پر حکومت گجرات کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ، شخصی وجوہات کی بناء قبل از وقت خدمات سبکدوش ہوجانے کا اعلان کیا ہے۔ مسٹر شرما فی الحال وڈودرہ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آرمڈیونٹ کے عہدہ پر فائز ہیں بتایا کہ قبل از وقت ریٹائرمنٹ کیلئے ریاستی حکومت کو 3ماہ کی نوٹس روانہ کردی ہے کیونکہ قاعدہ کے مطابق آئی پی ایس عہدیدار کو 50سال کے بعد خدمات سے سبکدوشی کیلئے 3ماہ قبل نوٹس دینا پڑتا ہے اور اب وہ حال ہی میں 50سال مکمل کرلئے ہیں اور یہ ریاستی حکومت کی صوابدید پر ہے کہ ان کی درخواست کو منظور کرلیا جائے۔ یہ دریافت کئے جانے پر کہ گودھرا پرفسادات کی تحقیقاتی کمیٹی کے روبرو ان کے بیان پر ریاستی حکومت کی انتقامی کارروائی کے اندیشہ سے استعفی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں نہیں سمجھتا کہ ریاستی حکومت کوئی کارروائی کرے گی‘‘ میرے پاس کئی مواقع ہیں اور اس سے زیادہ بہتر ملازمت حاصل کرسکتا ہوں۔ مسٹر شرما نے کہا کہ ریاستی حکومت کی کارروائی کو میں منفی انداز میں نہیں لیتا، اور ریاستی حکومت کے اقدام پر مجھے کوئی اختلاف نہیں ہوگا اور نہ ہی ریاستی حکومت کی کارروائی کے اندیشے سے میں نے استعفی دیا ہے۔ حال ہی میں اپنی اہلیہ کے انتقال کے بعد شرما نے گاندھی نگر یا احمد آباد تبادلہ کی خواہش کی تھی لیکن ریاستی حکومت نے انکار کردیا تھا۔ اس خصوص میں دریافت کرنے پر انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ میں نے تبادلہ کی کوشش کی تھی لیکن میری درخواست کو مسترد کردیا گیا۔

واضح رہے کہ مسٹر راہول شرما نے جسٹس ناناوتی کمیشن کے روبرو ایک سی ڈی پیش کی تھی جس میں گودھرا مشاورت کے دوران سرکاری عہدیداروں کے اہم ریکارڈ اور دائیں بازو کی تنظیموں بجرنگ دل اور وشوا ہندو پریشد لیڈروں کی نقل و حرکت کی تفصیلات تھیں۔ انہوں نے یہ ریکارڈنروڈا پاٹیہ، نروڈا کام اورگلبرگ سوسائٹی کے فسادات جس کو تحقیقات کے دوران تباہ کیا تھا۔ سال 2011 میں ریاستی حکومت شرما کے خلاف یہ چارج شیٹ پیش کیا تھا کہ انہوں نے سال 2002کے فسادات کے تحقیقاتی عہدیداروں کو ٹیلیفون کالس کے ریکارڈ پر مشتمل سی ڈی عمداً حوالے نہیں کی تھی بعد ازاں انہوں نے ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج مسٹر جی ٹی ناناوتی کمیشن کے روبرو یہ سی ڈی پیش کی تھی جس پر ریاستی حکومت سے مسٹر شرماکو وجہ نمائی نوٹس جاری کی گئی جس میں اختیارات کے بیجا استعمال کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاہم شرما نے شوکاز نوٹس کو کالعدم کروانے کیلئے سنٹرل ایڈمنسٹریشن ٹریبونل سے رجوع ہوئے تھے اور ٹریبونل میں اس نوٹس کو چیلنج کیا تھا اور الزام عائد کیا تھا کہ گجرات کے محکمہ داخلہ کے عہدیداروں نے سالانہ خفیہ رپورٹ میں ان کے خلاف نازیبا ریمارکس کئے ہیں جس کی وجہ سے انہیں پرموشن سے محروم کردیا گیا۔ تاہم سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل نے ابتدائی سماعت کے بعد شو کاز نوٹس پر حکم التواء جاری کردیا۔ بعد ازاں حکم التواء برخاست کردینے پر وہ گجرات ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے جہاں پر ان کاکیس معرض التواء ہے۔ گجرات ہائی کورٹ میں پیش کردہ درخواست میں مسٹر شرما نے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف ریاستی حکومت کا اقدام بدنیتی پر مبنی ہے۔