گاؤ ذبیحہ و گوشت کے استعمال پر امتناع کا مقدمہ

ممبئی 23 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) بمبئی ہائیکورٹ نے حال ہی میں بڑے جانوروں کے ذبیحہ ‘ گوشت کے استعمال اور ذخیرہ پر امتناع کو چیلنج کرنے والی مختلف درخواستوں پر آج اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے ۔ جسٹس وی ایم کناڈے اور جسٹس ایم ایس سونک پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ عدالت اس پر اپنا فیصلہ آئندہ ہفتے سنائیگی ۔ مہاراشٹرا تحفظ جانوران ( ترمیمی ) قانون پر ریاستی حکومت نے گذشتہ ماہ سے عمل آوری کا آغاز کیا ہے جس کے تحت گائے ‘ بیل اور بڑے جانوروں کے ذبیحہ ‘ اس کے گوشت کے استعمال اور ذخیرہ پر امتناع عائد کردیا تھا ۔ اس قانون کو چیلنج کرتے ہوئے تین درخواستیں عدالت میں دائر کی گئی تھیں۔ کہا گیا تھا کہ مہاراشٹرا کے باہر بھی اگر ان جانوروں کا ذبیحہ کیا جاتا ہے تو ان کا گوشت ریاست میں نہیں لایا جاسکتا اور نہ اسے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ اس کے نتیجہ میں گوشت کی برآمدات پر بھی امتناع عائد ہوتا ہے ۔ درخواستوں میں استدعا کی گئی تھی اس قانون پر حکم التوا جاری کیا جائے ۔سینئر وکیل اسپی چنوئے نے ایک درخواست گذار کی جانب سے عدالت میں پیش ہوتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے قانون سے شہریوں کے اپنی پسند کی غذا استعمال کرنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی پانچ ریاستوں جیسے بہار ‘ اتر پردیش ‘ پنجاب اور ہریانہ میں حالانکہ گائے ذبیحہ پر امتناع ہے لیکن وہاں گوشت کی برآمدات کی اجازت دی گئی ہے ۔ ایڈوکیٹ جنرل سنیل منوہر نے تاہم حکومت کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ گائے کا گوشت استعمال کرنا کسی شہری کا بنیادی حق نہیں ہے ۔ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ حکومت ایسے حقوق نہیں چھین سکتی ۔ ریاستی حکومت اپنی مرضی کی غذا استعمال کرنے کسی شہری کے حقوق کو باقاعدہ بناسکتی ہے۔