تلگودیشم اور کانگریس سے امیدوار امپورٹ، تلنگانہ کے مخالفین وزارت میں شامل
حیدرآباد۔ 22 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان ڈاکٹر شراون نے کہا کہ قومی سطح پر اہم رول ادا کرنے کا دعوی کرنے والے کے سی آر کو 16 امیدوار اپنی پارٹی میں دستیاب نہیں ہوئے لہٰذا انہیں تلگودیشم اور کانگریس سے منحرف قائدین کو ٹکٹ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر شراون نے کہا کہ کے سی آر نے اپنے 4 ارکان پارلیمنٹ ٹکٹ سے محروم رکھا اور تلنگانہ تحریک کے غداروں کو ٹکٹ دیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر 16 ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے کا دعوی کررہے ہیں لیکن وہ پارٹی کے اندر 16 امیدوار تیار نہ کرسکے۔ تلگودیشم اور کانگریس سے قائدین کو امپورٹ کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی اور کے سی آر اپوزیشن کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ لوک سبھا الیکشن میں اصل مقابلہ مودی اور راہول گاندھی کے درمیان ہے ۔ عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ملک میں ڈکٹیٹرشپ چاہتے ہیں یا جمہوریت کی بحالی۔ کانگریس پارٹی کو ووٹ دے کر جمہوریت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر شراون نے کہا کہ ریاستی وزیر لیبر ملاریڈی کا تلنگانہ تحریک سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے علاوہ ریاستی وزیر انیمل ہسبینڈری سرینواس یادو نے تلنگانہ تحریک کے دوران علیحدہ تلنگانہ کی مخالفت کرتے ہوئے کارکنوں پر حملہ کیا تھا لیکن آج ان دونوں قائدین کے علی الترتیب داماد اور فرزند کو لوک سبھا کا ٹکٹ دیتے ہوئے تلنگانہ تحریک کی توہین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف تلنگانہ عناصر کی حوصلہ افزائی پر عوام کے سی آر کو سبق سکھائیں گے۔