جامعہ عثمانیہ کی اراضی کو ہاتھ لگانے کے خلاف انتباہ : محمد علی شبیر کا بیان
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر خالی جگہوں کو ہتھیالینے کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کی ایک انچ اراضی کو ہاتھ لگانے کے خلاف حکومت کو سنگین نتائج کا انتباہ دیا اور طلبہ کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیا ۔ آج سی ایل پی آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ جس طرح چیل کی نظر مردار پر ہوتی ہے اسی طرح چیف منسٹر تلنگانہ کی نظر خالی اراضیات پر ٹیکی ہوئی ہے جہاں پر بھی خالی اراضی دیکھتی ہے کے سی آر اس کو حاصل کرنے کے لیے زمین آسمان ایک کررہے ہیں گریٹر حیدرآباد کے بلدی انتخابات کے پیش نظر غریب اور پسماندہ طبقات کو گمراہ کرنے کے لیے مسٹر کے چندر شیکھر راؤ عثمانیہ یونیورسٹی کی 11 ایکڑ اراضی پر مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دھوکہ دے رہے ہیں ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ 1918 میں عثمانیہ یونیورسٹی قائم کی گئی جس کا آج ملک کے مصروف اور باوقار یونیورسٹیز میں شمار ہوتا ہے ۔ 1600 ایکڑ اراضی پر اس کا وسیع کیمپس پھیلا ہوا ہے ۔ ہزاروں طلبہ مختلف کورسیس کی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ جن میں بیرونی ممالک کے 6000 طلبہ بھی شامل ہیں ۔ عثمانیہ یونیوسٹی تعلیمی مرکزکا نمونہ بنی ہوئی ہے ۔ لہذا چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شکھر راؤ عثمانیہ یونیورسٹی کی 11 ایکڑ اراضی حاصل کرنے کے فیصلے سے فوری دستبردار ہوجائے ۔ کانگریس پارٹی حکومت کو عثمانیہ یونیورسٹی کی ایک انچ اراضی حاصل کرنے کی بھی اجازت نہیں دے گی ۔ اگر حکومت ، طلبہ کے اور تعلیم کے مفادات کے خلاف کام کرے گی تو کانگریس پارٹی حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم کا آغاز کرے گی ۔ اس کے جو بھی نتائج برآمد ہوں گے اس کی راست ذمہ داری چیف منسٹر اور حکومت تلنگانہ پر عائد ہوگی ۔ تلنگانہ تحریک کے ذریعہ چیف منسٹر بننے والے کے سی آر سنہرے تلنگانہ کی تعمیر کرنے کے بجائے رئیل اسٹیٹ بزنس کو فروغ دے رہے ہیں ۔ پہلے ان کی نظر گروکل ٹرسٹ کی 627 ایکڑ اراضی پر پڑی ۔ پھر چیسٹ ہاسپٹل کی 57 ایکڑ اراضی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی پھر ملٹری علاقہ کے 60 ایکڑ اراضی پر سکریٹریٹ بنانے کے لیے مرکزی حکومت سے نمائندگی کی اور شہر کے اعلیٰ عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شہر کے اطراف و اکناف 2000 ایکڑ اراضی کو حاصل کریں ۔ ایسا لگتا ہے چیف منسٹر تلنگانہ کو لینڈ فوبیا ہوگیا ہے ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس کے 10 سالہ دور حکومت میں 46 لاکھ مکانات غریبوں کے لیے تعمیر کئے گئے جس میں گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 70 ہزار مکانات شامل ہیں ۔ اتنے بڑے پیمانے پر مکانات تعمیر کرنے کے باوجود کسی کو کوئی نقصان نہیں پہونچایا گیا ۔ ٹی آر ایس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں غریب عوام کے لیے 2 بیڈ روم فلیٹ تعمیر کرنے کا عوام سے وعدہ کیا ۔ اراضی کے لیے سب کو پریشان کیا جارہا ہے جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔۔